NA-18 کیس: عمر ایوب کے خلاف دوبارہ گنتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے انتخاب کو چیلنج کرنے سے متعلق کیس میں دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
یہ کیس درخواست گزار بابر نواز کی جانب سے دائر کیا گیا، جس میں صرف دوبارہ گنتی کی استدعا کی گئی ہے، الیکشن کالعدم قرار دینے کی نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ حلقہ این اے 18 میں متعدد پولنگ اسٹیشنز پر جعلی ووٹ ڈالے گئے، جبکہ نتائج کی کنسالیڈیشن (تصدیق) کا عمل بھی مکمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے 11 ہزار ووٹ مسترد کیے گئے، اور 604 پولنگ اسٹیشنز پر 7 لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے، جن میں سے 3 لاکھ 62 ہزار ووٹ صرف 540 منٹ میں کاسٹ ہونا غیر منطقی اور عملی طور پر ناممکن ہے۔
الیکشن کمیشن کے رکن بابر بھروانہ نے دوران سماعت سوال کیا "کیا ایسی کوئی مثال موجود ہے جہاں الیکشن ٹریبونل سے رجوع نہ کیا گیا ہو، وقت گزر چکا ہو، اور الیکشن کمیشن نے الیکشن کالعدم قرار دیا ہو؟”
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اعتراضات ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش کیے جانے چاہیے تھے، لیکن درخواست گزار نے وہ راستہ اختیار نہیں کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ انہیں کنسالیڈیشن کے عمل سے متعلق کوئی نوٹس نہیں ملا، اور ریٹرننگ آفیسر نے قانون کی خلاف ورزی کی۔
اس موقع پر عمر ایوب کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بابر نواز نے الیکشن کے فوری بعد سوشل میڈیا پر شکست تسلیم کی، حتیٰ کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے عمر ایوب کو جیت کی مبارک باد بھی دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نہ تو کسی قسم کی دھاندلی ثابت کر سکا اور نہ ہی قانون کے مطابق مقررہ فورمز سے رجوع کیا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ دنوں میں سنایا جائے گا۔
