عدم اعتماد کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب

صدر عارف علوی نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی شروع کرنے کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس 21۔مارچ کی بجائے 25 مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ اسپیکر اسد قیصر کے گھر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلائے جانے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اپوزیشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر 21 مارچ کے اجلاس میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہ کی گئی تو وہ قومی اسمبلی میں دھرنا دیں گے اور او آئی سی کا اجلاس بھی نہیں ہونے دیں گے.

حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اب قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ بروزجمعہ صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا، اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 مارچ کو اجلاس صرف ایک مرحوم ایم این اے کے لیے دعائے مغفرت کے بعد ملتوی کر دیا جائےگا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن نے گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ اگر اسپیکر نے قومی اسمبلی کے 21 مارچ سے شروع ہونے والے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر کارروائی آگے نہ بڑھائی تو ہم قومی اسمبلی میں ہی دھرنا دے دیں گے.

ذمہ داروں کے ایک فون پر اپوزیشن لیٹ گئی، وزیر داخلہ

اپوزیشن کے اس بیان کے بعد وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 کے بجائے 25 مارچ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کو 21 مارچ سے بھی آگے لے جا کر 25 مارچ کو طلب کرنے کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد وزیراعظم عمران خان سے بغاوت کرنے والے تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کو منانا کر واپس لانا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا موقف ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس انکی جانب سے آٹھ مارچ کو ریکوزیشن جمع کروائے جانے کے بعد 14 روز کے اندر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر کاروائی مکمل کرنا تھی اور وہ ایسا نہ کر کے آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

Back to top button