قومی اسمبلی کا اجلاس 28مارچ تک ملتوی، تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ نہ ہوسکی

قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے بغیر 28 مارچ پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے، سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس کے 15 نکاتی ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد شامل تھی، قومی اسمبلی اجلاس میں 80 کے قریب حکومتی اراکین شریک ہوئے، متحدہ اپوزیشن کے 3 اراکین اجلاس میں‌ شریک نہیں‌ ہوئے۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی اجلاس میں‌ موجود تھے، جماعت اسلامی نے نیوٹرل ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کی، اجلاس میں اپوزیشن کے 159 اور حکومت کے 80 اراکین شریک ہوئے۔ شاہ زین بگٹی بھی اجلاس میں موجود تھے۔
سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت یونیوالے قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد وفات پانے والے رکن قومی اسمبلی خیال زمان، سابق صدر رفیق تارڑ، مرحوم سینیٹر رحمٰن ملک، پشاور مسجد دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
فاتحہ خوانی کے بعد سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمانی راویت کے مطابق اگر قومی اسمبلی کا کوئی رکن انتقال کر جائے تو اجلاس کا ایجنڈا آئندہ روز تک کے لیے ملتوی کردیا جاتا ہے، یہ برسوں سے ہو رہا ہے اور ماضی میں ایسا 24 مرتبہ ہوچکا ہے۔ جس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے معمول کی کارروائی کا آغاز کیے بغیر اجلاس پیر 28 مارچ شام 4 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا جس کے باعث آج تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاسکی۔
اس کے علاقہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیمی بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو پیش کردیا۔اور درخواست کی کہ اس بل کو پیر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے،وزیر خارجہ کی درخواست پر سپیکر نے جنوبی پنجاب آئینی ترمیمی بل کو پیر کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پرڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے موقع پرسکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،اور سپیکر نے سخت سکیورٹی کے پیش نظر اراکین کیلئے ہدایت نامہ جاری کیا تھا، جس کے مطابق کسی پارلیمنٹیرین یا وزیر کے وزیٹر،مہمان،سکیورٹی گارڈ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں آنے کی اجازت نہ تھی اور انہیں پارلیمنٹ لاجز کے سامنے ڈی چوک تک محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ٹریفک جام سے بچنے کے لیے پارلیمنٹ لاجز اور گورمنٹ ہاسٹلز سے پارلیمنٹ ہاؤس کے لیے ایک شٹل سروس چلائی گئی تا کہ اراکین کو سہولت فراہم کی جاسکے۔اس کے علاوہ پارلیمنٹیرینز کے ذاتی ڈرائیورز کو اپنی گاڑیاں مخصوص مقام پر کھڑی کرنا اور گاڑی چھوڑ کے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہ تھی۔پارلیمنٹ ہاؤس کی سکیورٹی پر مامور اداروں کو بھی اس کے مطابق انتظامات کرنے اور اسپیکر کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا کہا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے 8 مارچ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکوزیشن جمع کرائی تھی،آئین کے تحت سپیکر قومی اسمبلی 14 روزکے اندر اجلاس بلانے کا پابند ہے لیکن انہوں نے14ویں روز21 مارچ تک اجلاس نہ بلایا،جو آج طلب کیا گیا تھا۔

Back to top button