قومی اسمبلی اجلاس کاایجنڈا جاری، تحریک عدم اعتماد شامل

تحریک عدم اعتماد کے حوالےسے اپوزیشن کے مطالبے پر قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اور غیر معمولی اجلاس 25 مارچ کو صبح 11 بجےہوگا، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیاہے. قومی اسمبلی اجلاس کے جاری کئے گئے ایجنڈے میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے۔
غیرمعمولی اجلاس کی صدارت اسپیکر اسد قیصر کریں گے، قومی اسمبلی کے اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے، جس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد بھی شامل ہے۔ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ ایوان کے 152 ارکان کی رائے ہےکہ وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں،لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹا دیاجائے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری ایجنڈے کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو صبح 11 بجے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوگا، جس کے بعد پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے جائیں گے۔ایجنڈے کا تیسرا نکتہ 146 اراکین کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد ہے، جو آئین کے آرٹیکل 95 ون کے ساتھ قومی اسمبلی کے 2007 کے رولز اینڈ پروسیجر 37 کے تحت وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جائے گی۔
تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت پر 152 ارکان وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کریں گے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے میں وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔قومی اسمبلی میں پیش ہونے والی تحریک میں مطالبہ کیا جائے گاکہ وزیر اعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں لہذا انہیں عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔ایجنڈے میں عوامی مفاد کے معاملات پر اراکین اسمبلی توجہ دلاؤ نوٹس پیش کریں گے اور متعلقہ وزرا اس حوالے سے مؤقف پیش کریں گے۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دو روز قبل ہی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کا اجلاس 25 مارچ، 2022 بروز جمعہ دن 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرنے کا اعلان کیا تھا۔بیان میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آئین کی دفعہ 54 (3) اور دفعہ 254 کے تحت تفویض اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے طلب کیا ہے۔
اس ضمن میں کہا گیا تھا کہ اجلاس اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن پر طلب کیا گیا ہے جو موجودہ قومی اسمبلی کا 41 واں اجلاس ہو گا۔
واضح رہے کہ آرٹیکل 54 کے مطابق کم از کم 25 فیصد اراکین کے دستخط کے ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن جمع کروائی جائے تو اسپیکر کے پاس اجلاس بلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 14 دن کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اسپیکر کو 22 مارچ تک ایوان زیریں کا اجلاس طلب کرنا تھا۔
تاہم قومی اسمبلی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی تھی کہ 21 جنوری کو قومی اسمبلی نے 22 اور 23 مارچ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے 48 ویں اجلاس کے لیے اپنے چیمبر کے خصوصی استعمال کی اجازت دینے کے لیے ایک تحریک منظور کی تھی۔بیان میں کہا گیا تھا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنے چیمبر کی عدم دستیابی کی وجہ سے سینیٹ سیکرٹریٹ کو ایوان زیریں کے اجلاس کے لیے اپنا چیمبر فراہم کرنے کو کہا تھا لیکن یہ بھی تزئین و آرائش کے کام کی وجہ سے دستیاب نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ مشترکہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کے اجلاس کی ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔آئینی ضابطہ کار کے مطابق اسپیکر ریکوزیشن جمع کرانے پر 14 روز کے اندر اجلاس طلب کرنے کا پابند ہوتا ہے۔تاہم اسپیکر کی جانب سے 11 روز گزر جانے کے باوجود کوئی اعلان نہ سامنے آنے پر اپوزیشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر پیر تک تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں کارروائی شروع نہیں کی گئی تو ایوان میں دھرنا دیں گے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے روایات کے مطابق اجلاس کو پی ٹی آئی کے ممبر کی رحلت کے باعث اجلاس کو تعزیتی ریفرنس میں تبدیل کرکے ملتوی کرنے کا امکان ہے، ایسا ہونے کی صورت میں اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج کا بھی قویٰ امکان ہے۔
واضح رہے کہ پارلیمانی روایات کے مطابق کسی بھی رکن اسمبلی کے انتقال کے بعد طلب کیے گئے اجلاس کا پہلا روز فاتحہ کے بعد مزید کارروائی کے ملتوی کر دیا جاتا ہے تاہم یہ پارلیمانی روایات ہیں رولز میں ایسا کرنا ضروری نہیں ہے۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی خیال زمان فروری میں انتقال کر گئے تھے۔
اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد پر اجلاس کے پہلے روز بحث کروائیں۔ اپوزیشن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی پر الزام عائد کر رکھا ہے کہ اسد قیصر نے 14 روز کے اندر اجلاس نہ بلا کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا
ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ اپوزیشن ایوان میں پاور شو کرے گی اور اپنے تمام ارکان کو اجلاس میں شریک ہونے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں، دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے ارکان کو اجلاس میں حاضر ہونے کے لیے کوئی خصوصی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ قومی حکومتی اتحاد کے پاس 179 جبکہ اپوزیشن کے پاس 162 ممبران ہیں۔
اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو طلب کیا تھا تاہم اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اجلاس کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا جس پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جارہی تھی۔
