نیب نے ارکان پارلیمنٹ کو غیر سنجیدہ مقدمات سے محفوظ رکھنے کےلیے طریقہ کار وضح کردیا

نیب نے قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان کو کرپشن کے غیر سنجیدہ مقدمات میں ہراساں کرنے اور من مانی گرفتاری سے محفوظ رکھنے کےلیے طریقہ کار وضح کردیا۔

نیب کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کو منصفانہ انداز سےنمٹانے کو یقینی بنانے کےلیے چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کی جانب سے قریب سےنگرانی کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ایسے ارکان پارلیمنٹ کےحقوق اور سہولتوں کی حفاظت کی جاسکے جن کے خلاف کوئی تحقیقات ہورہی ہوں۔

ارکان پارلیمنٹ کے خلاف بدنیتی پرمبنی،فضول،گمنام اور فرضی شکایات کی حوصلہ شکنی کےلیے پارلیمانی اکاؤنٹیبلٹی فیسیلیٹیشن سیل (پی اے ایف سی) قائم کیا جارہا ہے۔ نئے ایس او پیز کےتحت ارکان پارلیمنٹ کے خلاف نیب کو موصول ہونےوالی تمام شکایات کو مزید کارروائی سےقبل چیئرمین نیب کےنوٹس میں فوری طور پر لایاجائے گا۔

ایف آئی اے نے تجزیہ کار اوریا مقبول جان کو لاہور سے گرفتار کرلیا

پہلی صورت میں، چیئرمین نیب کی منظوری سےیہ شکایت اِن پٹ اور رائے کے حصول کےلیے چیئرمین سینیٹ یا قومی اسمبلی یا متعلقہ صوبائی اسمبلی کےاسپیکر کو بھیجی جائے گی،شکایت کو بہرحال خفیہ رکھا جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ،قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کےاسپیکر (معاملے کی نوعیت کےلحاظ سے)ابتدائی تحقیقات کےبعد چار ہفتوں میں رپورٹ کےذریعے اپنے نتائج نیب ہیڈ کوارٹر کو بھیجیں گے۔

نیب کی جانب سےشکایت کی تصدیق اور انکوائری کےمرحلے کےدوران پارلیمنٹ کےکسی رکن کو طلب نہیں کیا جائےگا۔حالات دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوکہ انصاف کی خاطر یہ حاضری ضروری ہے تو یہ طلب کیے جانےسے قبل چیئرمین نیب کی واضح منظوری ضروری ہوگی۔

پارلیمنٹ کے رکن کے خلاف کسی بھی قسم کی زبردستی کارروائی بشمول ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرناوغیرہ جیسے متعلقہ اقدامات سےاسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کےفوری مطلع کیاجائے گا۔ نیب کےذریعے کوئی انکوائری کرانا مقصود ہو تو چیئرمین یا اسپیکر اپنی مرضی سے کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف شکایت بھیج سکتے ہیں۔

Back to top button