نیب مجھے سیاست سے باہر رکھنے کےلیے استعمال ہو رہا ہے : عمران خان

عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اسٹیبلشمنٹ اور ان کے سیاسی مخالفین کے دباؤ پر کام کر رہا ہے تاکہ انہیں سیاست سے باہر کیا جا سکے۔
توشہ خانہ 2 کیس کی تفتیش کے دوران اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ انہیں ’’اندرونی اور بیرونی سازش‘‘ کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا اور نومبر 2022ء سے وہ غیرمعمولی انتقام کی زد میں ہیں۔ان پر اور پی ٹی آئی قیادت پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے لیکن زیادہ تر ریفرنسز میں سزا معطل ہوئی یا بریت ملی۔
عمران خان نے سوال اٹھایا کہ اگر توشہ خانہ ریفرنس واقعی شفاف ہے تو صرف انہیں اور ان کی اہلیہ کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی توشہ خانہ سے لگژری گاڑیاں حاصل کرچکے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
عمران خان نے مؤقف اپنایا کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران تحائف کی مالیت سرکاری طور پر منظور شدہ ماہرین نے طےکی تھی اور اس میں کسی قسم کا ذاتی اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا گیا۔وہ اور ان کی اہلیہ جھوٹے مقدمات کی وجہ سے طویل عرصے سے جیل میں ہیں۔
بشریٰ بی بی نے اپنے تحریری بیان میں کہاکہ انہوں نے کبھی توشہ خانہ سے کوئی تحفہ وصول نہیں کیا اور نہ ہی تحائف کی قیمت کا تعین کرنے کے عمل میں شامل رہیں۔بطور پردہ دار خاتون وہ نہ وزیراعظم ہاؤس سے رابطے میں رہیں اور نہ ہی توشہ خانہ حکام سے۔
عالمی برادری اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لائے : اسحاق ڈار
بشریٰ بی بی نے الزام لگایا کہ انہیں صرف عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ وہ اور عمران خان پہلے ہی ایک اور مقدمے میں 14 سال قید کی سزا پاچکے ہیں، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلی سماعت میں معطل کردیا تھا۔
