ایجنسیوں نے عمران خان کے خلاف بھی فائلیں تیار کرلیں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایجنسیوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف فائلیں تیار کرلی ہیں جو وقت آنے پر ان کے خلاف استعمال کی جائیں گی۔ وزیراعظم کو متنبہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ایجنسیوں کے پاس ان کے خلاف دستاویزی ثبوتوں کا ڈھیر لگ چکا ہے۔ زرداری اور نواز شریف تو اپنے خلاف کیسز بھگت چکے، اب عمران خان کیسز بھگتنے کیلئے تیار ہو جائیں۔

نیا دور کے پروگرام "خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے سیٹھی نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کا سیاسی معاملات میں ساتھ چھوڑ کر غیر جانبداری ثابت کر دی ہے کیونکہ اپوزیشن کیساتھ یہی انڈرسٹینڈنگ تھی کہ ہم نیوٹرل ہو جاتے ہیں لہٰذا آپ لوگ ہمیں اٹیک مت کریں۔ جواب میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کہا گیا تھا کہ ہم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں لیکن آپ عملی طور پر نیوٹرل ہو کر دکھائیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نومبر 2021ء میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس لئے اب عمران خان اور انکے ساتھی پریشان ہو چکے ہیں۔ اب اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے تاریخ کا اعلان کرنے جا رہی ہے اور وہ اپنے اعلان سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ اب حکومت کا معاملہ زیادہ سے زیادہ 10 روز میں ختم ہو جائے گا۔

تاہم سیٹھی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد لانے میں اپوزیشن کو رکاوٹیں ضرور ہونگی کیونکہ خان صاحب چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ مخالفین کی گرفتاریوں سمیت ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بھرپور کوششیں کرینگے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے باغی اراکین اسمبلی کا حق بنتا ہے کہ وہ جن حلقوں سے جیتے ہیں، انھیں وہاں سے دوبارہ الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن نے حل نکال لیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ان باغی اراکین اسمبلی کو کہاں کہاں ایڈجسٹ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران تحریک عدم اعتماد سے کسی صورت بچ بھی نکلے تو ان کی فارن فنڈنگ کیس میں چھٹی ہونا یقینی ہے۔

نجم سیٹھی نے چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیوں کے پاس عمران خان کے خلاف بہت زیادہ مواد موجود ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ فائلوں کا انبار ہے۔ نواز شریف اور زرداری تو ماضی میں بھگت چکے، اب ان کے بھگتنے کا وقت آنے والا ہے۔ وہ فائلیں جو میڈیا کو اپوزیشن کیخلاف ملتی تھیں، وہی اب عمران خان کیخلاف ملیں گی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو بھی سکتی ہے۔ تاہم اگر ایسا ہوا تو اپوزیشن سمجھے گی اسے اسٹیبلشمنٹ نے فیل کروایا ہے اور ان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر دھوکا کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد لانگ مارچ ہوگا جس کی دھمکی دی گئی ہے۔

پشاور کی امام بارگاہ میں ہونے والی دہشت گردی کے افسوسناک واقعے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ ہماری ناکامی ہے کہ ہم افغان طالبان دوستوں کو سمجھا نہیں سکے کہ ان کے درمیان جو پاکستانی طالبان یا خراسان والے بیٹھے ہیں ان پر کچھ دبائو ڈالا جائے تاکہ وہ پاکستان کا رخ نہ کریں۔

حکومت نے شروعات میں ایسی کوشش کی تھی لیکن طالبان کی جانب سے جواب دیا گیا تھا کہ ہم ان پر کسی قسم کا دبائو نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی ایسا کرینگے۔

نجم سیٹھی نے یاد دلایا کہ حکومت کے ٹی ٹی پی سے مذاکرات بھی ہوئے ہیں اور تقریباً ایک ماہ کیلئے سیز فائر بھی ہوا لیکن اس کے بعد شدید حملے شروع ہو چکے ہیں لہٰذا ہمارے چینی دوست اور سرمایہ کار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

 

ازبک صدر کا دورہ پاکستان، وزیراعظم نے استقبال کیا

دلچسپ اور کمال کی بات یہ ہے کہ امریکا کے افغانستان سے جانے کے بعد پاکستان پر حملے بڑھ چکے ہیں، نجم سیٹھی نے کہا کہ افغان طالبان کو ڈر ہے کہ اگر انہوں نے پاکستانی طالبان کو چھیڑنے کی کوشش کی تو وہ انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ دونوں کی آئیڈیالوجی ایک ہی ہے۔

Back to top button