نند اور بھابھی کی لڑائی: علیمہ خان کی بشری بی بی کے خلاف بغاوت

پی ٹی آئی پر قبضے کیلئے نند اور بھابھی یعنی علیمہ خان اور بشری بی بی کی اندرونی لڑائی اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے تحریک انصاف کی قیادت کرنے کے خواہشمند تمام امیدواروں کو کھڈے لائن لگاتے ہوئے فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے وہیں دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ جان نے بشری بی بی کی آمریت کیخلاف کھل کر بغاوت کر دی ہے اور پارٹی کی قیادت دوبارہ اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان کی پارٹی پر اجارہ داری کے لیے کوششوں کے شواہد منظر عام پر آگئے ہیں۔ واٹس ایپ پر کی گئی گفتگو میں علیمہ خان کی اپنے بھائی کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، ان واٹس ایپ میسیجز میں علیمہ خان کی بانی پی ٹی آئی کی جیل میں قید کو سیاسی مقاصد اور پارٹی پر اجارہ داری کیلئے استعمال کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

علیمہ خان سوشل میڈیا آپریٹر احسن علوی کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو”Pot of Gold”۔سے تشیبہ دے رہی ہیں۔ علیمہ خان نے پیغامات میں کہا کہ ”ہم کیوں بانی پی ٹی آئی کیلئے جیل میں ائیر کنڈیشن اور بڑا کمرہ حاصل کرکے حالات کو نارمل دکھائیں، ”لوگوں کو درد محسوس ہونا چاہیے جو فریج، اے سی اور کمرہ پینٹ کروانے سے نہیں ہوگا“۔

علیمہ خان نے احسن علوی کو بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی بیانیہ بنانے کا کہا کہ لوگوں کو بتائیں کہ بانی پی ٹی آئی کو سزا عدت کیس میں ہوئی کیونکہ بشریٰ بی بی نے اپنی بیٹیوں کو عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا۔

علیمہ خان نے واٹس ایپ پیغامات کے اگلے مرحلے میں تاثر دیا کہ وہ مشال یوسف زئی کے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ قریبی اور گہرے تعلقات سے واقف ہیں، مشال یوسفزئی اپنی تین وزارتیں اڈیالہ جیل سے چلاتی ہے، کیونکہ وہ کم از کم تین دن سے اڈیالہ جیل میں ہے۔احسن علوی نے جواباً کہا کہ مشال یوسفزئی کی اڈیالہ جیل تک رسائی کو محدود کرنا چاہیے، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کو مشال یوسفزئی کا نام فہرست میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔واٹس ایپ پیغامات میں مشال یوسفزئی کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مشیر کے عہدے سے ہٹائے جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا گیا۔

واٹس ایپ پیغامات کا تیسرا حصہ علیمہ خان اور وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے درمیان ہے۔

علیمہ خان نے شیر افضل مروت کی بیماری کی حالت میں تصویر مع عنوان علی امین گنڈاپور کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ” گیدڑ افضل خان کی حالت کرونا کی نئی قسم جی ایچ کیو 420 کی وجہ سے تشویش ناک ہے، مروت ہمیشہ اس وائرس کا شکار ہو تا ہے جب بھی بانی پی ٹی آئی احتجاج کی کال دیتا ہے۔

علی امین گنڈا پور نے طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”اس نے یہ ویڈیو بغیر ماسک کے بھیجی ہے یہ ہے فارم 47 کا قرنطینہ“۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان واٹس ایپ پیغامات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی دھڑے بندی کا شکار ہوچکی ہے جس میں موروثی سیاست عروج پر ہے۔ منظر عام پر آنے والے واٹس ایپ پیغامات بھی علیمہ خان کی خود غرض سیاست کا واضح ثبوت ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں جتنا عرصہ بانی پی ٹی آئی جیل میں رہے گا اس کا فائدہ ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی رہائی علیمہ خان کے سیاسی سفر کا خاتمہ کردے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کا مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی میں پرانے لوگوں اور نئے آنے والوں میں کشمکش جاری ہے، تین چار دھڑے اور گروپ بن چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق  تحریک انصاف کے بانی عمران خان جتنا زیادہ عرصہ جیل میں مقید رہیں گے، اتنے ہی امکانات بڑھتے جائیں گے کہ پی ٹی آئی میں گروپنگ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو گی۔تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان سب سے زیادہ اعتماد اپنی اہلیہ بشری بی بی پر کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تکلیف بھی ان کی گرفتاری پر ہوئی تھی۔ وہ اعلانیہ کئی بار اپنی اہلیہ پنکی پیرنی کو دینی تعلیم کے حوالے سے اپنا مرشد بھی کہہ چکے ہیں ان باتوں سے لگتا یہی ہے کہ عمران خان جلد باقاعدہ پارٹی کی عارضی قیادت اپنی مرشد بشری بی بی کے حوالے کر دینگے۔تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان کو اپنے اس فیصلے پر اپنی بہن علیمہ خان کی جانب سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی پچھلے چند ماہ میں ایک مضبوط مزاحمتی لیڈر بن کر ابھری ہیں۔ تاہم  یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کے ایسے کسی فیصلے پر پارٹی کے اندر سے بغاوت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ شیر افضل مروت اور علی محمد خان جیسے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما ایسے کسی بھی ممکنہ فیصلے پر سخت مزاحمت کا اشارہ دے چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں موروثیت کی کوئی جگہ نہیں اور وہ ایسے کسی فیصلے کو تسلیم نہیں کرینگے

Back to top button