نریندر مودی کا 400 سیٹیں حاصل کرنے کا خواب کیسے چکنا چور ہوا؟

بھارت میں عام انتخابات کے نتائج سامنے آگئے، مودی کا ’’اب کی بار 400پار ‘‘ کا نعرہ ناکام ہوگیا، بی جے پی ایک دہائی بعد اکثریت سے محروم تاہم حکمران اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا کے انتخابات میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو اب اتحادی حکومت بنانا پڑے گی۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا فیصلہ نریندر مودی کے لیے کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے جہاں ایک طرف وہ تیسری مرتبہ اپنا عہدہ سنبھالنے کیلیے تیار بیٹھے ہیں وہیں دوسری جانب بی جے پی کی قیادت میں چلنے والے اتحاد کو ان کے اپنے 400 نشستوں کے حصول کے مقصد میں کامیابی نہیں ملی۔ تمام پولز اور انتخابات سے پہلے کی پیشگوئیوں سے انحراف کرنے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی قیادت میں چلنے والے اتحاد کی نشستیں 300 سے کچھ کم ہی رہیں گی جبکہ اپوزیشن جماعتیں 230 نشستوں پرآگے ہیں۔ بھارتی انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوگیا مودی کے حمایت میں کوئی بڑی لہر موجود نہیں تھی۔بلکہ مودی کواس حلقے میں بھی شکست ہوئی جہاں ان کو ہندوؤں کو خوش کرنے کیلئے رام مندربنایاتھا۔
تاہم دوسری جانب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عوام نے ان پر تیسری مرتبہ اعتماد‘ کیا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا کے انتخابات میں وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کی سربراہی میں قائم نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔سرکاری نتائج کے مطابق کہ این ڈے اے کو ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
انڈیا کے 543 رکنی ایوان زیریں میں حکومت سازی کے لیے کم از کم 272 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے اور این ڈی اے نے اب تک 290 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ بی جے پی 238 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے جو کہ حکومت سازی کے لیے ناکافی ہے۔
پنجاب میں ہتک عزت بل قائم مقام گورنرکے دستخط کے بعد قانون بن گیا
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے 232 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے 99 سیٹیں جیت لی ہیں۔گوکہ لوک سبھا میں بی جے پی اتحاد کو سادہ اکثریت مل گئی ہے لیکن انڈین میڈیا کے مطابق بی جے پی کی قسمت کا فیصلہ این ڈی اے میں شامل جماعت جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے ہاتھ میں ہے۔انڈیا کے انتخابات میں
مودی کےسیاسی اتحاد کی واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی نے جہاں مودی کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے وہیں مودی کی شکست نے ٹائیکونز کے کھربوں ڈبو دیے ۔
فوربز اور بلومبرگ کے مطابق بی جے پی کی شکست سے گوتم اڈانی کو ایک دن میں 69کھرب64ارب روپے،مکیش امبانی کو 7کھرب ، جندال خاندان کو 5کھرب روپے جبکہ کمار منگلم کو دو کھرب سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔جو کہ ایشیائی ارب پتی افراد کے لیے اب تک ایک ہی روز میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔
مبصرین کے مطابق بھارتی نتخابی نتائج نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ایگزٹ پولز مکمل طور پر بے بنیاد تھے – اب یہ وسیع پیمانے پر یقین کیا جاتا ہے کہ ایگزٹ پولز خود بی جے پی اور پرو-بی جے پی میڈیا آؤٹ لیٹس نے تیار کیے تھے۔کئی لوگ جو پچھلے انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیتے تھے، انہوں نے اس بار اسے ووٹ نہیں دیا۔ مبصرین کے مطابق 2024 کے انتخابی نتائج کو مودی کے خلاف انتخابی انتقام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے؛ بلکہ یہ ان کے خلاف بڑے عوامی بے حسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلی بار مودی کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بی جے پی کی قیادت والے اتحاد میں چھوٹی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابی نتائج مودی جیسے لیڈر کے لیے ایک دھچکا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان کے سیاسی منظر نامے پر حاوی تھا۔ اب اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی بی جے پی کے لیے اقتصادی پالیسی کو لاگو کرنا مزید مشکل بنا دے گی۔
