قومی اسمبلی:27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سےمنظور

قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیمی بل کی اضافی ترامیم کے ساتھ دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی۔
27ویں آئینی ترمیم کے حق میں 234ارکین نے ووٹ دیا، 4 اراکین نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
27ویں آئینی ترمیم میں سینیٹ سے منظور ترمیم کو اضافی ترامیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 اضافی ترامیم پیش کیں۔
قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی اور کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خدوخال سینیٹ میں پیش کردیے تھے، قانون اور آئین میں ترمیم ایک ارتقائی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے۔
اس کے بعد 27 ویں آئینی ترامیم پر شق وار ووٹنگ کی گئی اور تمام 59 شقیں منظور کرلی گئیں، ترمیم کی حمایت میں 233 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔
جمعیت علمائے اسلام نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
اس عمل کے بعد ترمیم کے حق اور مخالفت میں ووٹ کرنے والے ارکان باری باری ایوان سے باہر گئے۔
ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعدسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم منظورکرلی جس کی حمایت میں 234 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور کی تھی۔
