نون لیگ نے اپنے اقتدار کی راہ کیسے ہموار کی؟

بلوچستان ميں ان دنوں سياسی مفادات، مفاہمت خريدنے کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ ويسے تو سياست دانوں کو، عوامی اور ان کےمسائل سے کوئی دلچسپی نہيں ہے، مگر صوبہ بلوچستان کےسياست دان بھی اس عدم دلچسپی ميں سب سے آگے ہيں۔ بلوچستان کی سياسی منڈی ميں طاقتور، نواب، خان اور سرداروں کی حيثيت اور وزن کی وجہ سے ان کی خريداری کے لیے نواز شريف کو اپنے بھائی اور صاحبزادی کو ساتھ لے کر دو دن کوئٹہ ميں قيام کرنا پڑا اور کئی سرکردہ لوگوں کو ن ليگ ميں شامل کروا ليا جبکہ اب پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں ڈیرے ڈال لئے ہیں۔مياں نواز شريف 2024 کے انتخابات کی تياری کے لیے اور اپنی حکومت بنانے کے مشن پر اگلے مرحلہ ميں، کے پی کے اور آزادکشمير، گلگت بلتستان ، جائيں گے۔

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کے قریب آنے کے ساتھ ہی طاقتور حلقوں کی ایماء پر ملک میں نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ ملک کی تمام سياسی جماعتوں اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے تعلق کو سمجھنے کے لیے، 1988سے لے کر 2023 تک گزشتہ 36 سالوں ميں ملک گير سياست،حکومتوں کی تبديليوں، اسٹبلشمنٹ کے کردار اور ہر ادوار ميں مقتدر قوتوں کا آلہ کار بنے والی سياسی جماعتوں کے کردار کو ضرور سامنے رکھا جائے تو پاکستان میں ہر سياسی بحران ميں آرمی چيف کا عہدہ ايک ’’اسٹيک ہولڈر ” کے طور پر سامنے آتا ہے۔ تمام ہی سياسی رہنما اور پارٹياں اقتدار کے حصول کے ليے ان کامنظور نظر بننے کی کوشش ضرور کرتی ہيں، مگر کاميابی کسی کسی کو ملتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کی بات کریں تو بظاہر ہر چیز پہلے سے طے شدہ دکھائی دیتی ہے۔ گو کہ پیپلزپارٹی کے کی جانب سے فکس میچ کے الزامات کو مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں نے قبول بھی کیا،
تحریک انصاف کی اقتدارسے بے دخلی اورپھرسولہ ماہ کی پی ڈی ایم اورپیپلزپارٹی کے اتحاد پر مبنی حکومت میں مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہترکرنے میں کامیاب ہوگئی جس کا کریڈٹ بلاشبہ شہبازشریف کو جاتا ہے کہ انہوں نے دوطرفہ کوششوں سے نہ صرف اپنے بھائی اورپارٹی قائد میاں نوازشریف سے اسٹیبلشمنٹ کے مطالبات منوائے، وہیں دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ سے بہتر ڈیل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

نوازشریف کی وطن واپسی کے بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں اورماضی کے شکوے شکایت کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ اس ساری صورتحال نے مسلم لیگ ن کو ایک سیاسی اعتماد فراہم کر دیا، جس کے بعد وہ آئندہ الیکشن میں الیکٹیبلز کے بجائے نوازشریف کے چہرے پر الیکشن لڑے گی۔ اس تبدیلی کےسبب ہی تحریک انصاف سے علیحدہ ہونے والے جہانگیر ترین اورعلیم خان گروپ کومسلم لیگ ن میں خوش آمدید نہ کہا گیا، جس کے بعد استحکام پاکستان پارٹی تشکیل پائی۔

دوسری جانب 16 ماہ اقتدار میں ساتھ رہنے والی پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتوں میں دوریاں کوئی ناسمجھ آنے والی بات نہیں۔ دونوں ہی اقتدار کے ایوان تک رسائی چاہتی ہیں اور اسی وجہ نے انہیں حلیف سے حریف بنادیا ہے۔ ویسے بھی سیاست میں نہ دوست مستقل ہوتے ہیں نہ ہی دشمن۔ وقت اور مفادات آپ کو کسی کے ساتھ یا کسی کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ 16 ماہ کی ورکنگ ریلیشن شپ دہائیوں پرمحیط سیاسی دشمنی کو دوستی میں نہیں بدل سکتی۔ یہ بات دونوں جماعتوں کی قیادت کو اچھی طرح معلوم ہے۔

مسلم لیگ ن نے اپنے سیاسی بیانیے نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کی کارکردگی کو نمایاں کر رہی ہے جبکہ 16 ماہ کی حکومت کو مجبوری کا نام دیا ہے۔ساتھ ہی وہ 16 ماہ کی ناکامیوں کو اتحادی حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے ساتھ شیئر کر رہی ہے۔

دوسری طرف بلاول بھٹو ایک نئے بیانیے کے ساتھ میدان میں آئے ہیں کہ تین مرتبہ والے وزیراعظم کے بجائے ایک نوجوان کو وزیراعظم منتخب کریں۔ اپنے سیاسی بیانات میں بلاول خاصے جارحانہ بھی نظرآئے اور مسلم لیگ ن کی قیادت پر طنز وتنقید کے نشترچلائے۔ ”پرانے بابے اب دعائیں کریں اورسیاست نوجوانوں کے حوالے کر دیں‘‘ کی بات کرکے بلاول بھٹو نے نہ صرف مسلم لیگ ن کی قیادت کو نشانے پررکھ لیا ہے، وہیں مولانا فضل الرحمان بھی اس کی زد میں آتے دکھائی دیے ہیں۔ بلاول کے اس بیانیے کو خود پیپلزپارٹی میں بھی پوری طرح قبولیت نہیں ملی ہے اور بہت سے ارکان اس بیان کا دفاع کرنے سے گریزاں دکھائی دیتے نظر آتے ہیں۔

جوانی کا جوش کہیں یا سیاسی ناپختگی بلاول بھٹو اپنے لیے سیاسی راہ ہموار کرنے کے بجائے اپنی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اپنے والد آصف زرداری کی مرضی کے برخلاف بلاول نے پی ڈی ایم حکومت میں شمولیت اختیار کرکے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالا اس کے بعد بھی متعدد بار بلاول بھٹو اورآصف زرداری کی سوچ اوراقدامات میں واضح فرق نظر آیا ہے۔  وزير خارجہ بنے کے بعد بلاول کو گمان ہوگيا کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کی طرح وزير اعظم بن جائيں گے۔ انہيں اندازہ نہ ہوسکا کہ اسٹبلشمنٹ نواز شريف کے ساتھ 2018 کے انتخابات ميں زيادتی کا

PTIکے باغی رہنما نیازی کیخلاف میدان میں آنے کو تیار

اعتراف کرکے اس کا ازالہ کرنے پر اتفاق کر چکی ہے۔

Back to top button