نواز شریف بد دل اور سیاسی تنہائی کا شکار کیوں ہو گئے؟

تین مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے نون لیگ کے قائد نواز شریف اس وقت شدید بددلی اور تنہائی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے تو سیاسی رہنما کا بنیادی کردار اپنے کارکنان اور حامیوں کا حوصلہ بلند رکھنا ہوتا ہے، مگر موجودہ حالات میں منظر نامہ کچھ مختلف ہے۔ اس وقت خود میاں صاحب کو اپنے حامیوں کی طرف سے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ان کی مایوسی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل جمود کا شکار ہے؛ انتظامی ڈھانچہ تو فعال ہے لیکن نون لیگ کی سیاست کا کوئی پُرسانِ حال نظر نہیں آتا۔ نواز شریف نے اپنا سیاسی سفر جہاں سے شروع کیا تھا، آج وہیں آ کر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں میاں نواز شریف کے ساتھیوں کو انکا حوصلہ بڑھانا چاہیئے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ تقریباً ایک سال قبل انہوں نے پنجاب حکومت کی ایک اعلیٰ شخصیت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر نہ صرف ان کا فون اٹینڈ نہیں کیا گیا بلکہ بعد میں بھی کسی پیغام کا جواب نہیں دیا گیا۔ یہ محض ایک ذاتی تجربہ نہیں نکلا، بلکہ بعد ازاں ایک سینئر ایڈیٹر سے گفتگو میں معلوم ہوا کہ یہی رویہ دیگر صحافیوں اور حتیٰ کہ بڑے میڈیا عہدیداران کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے، جو کہ حکومتی سطح پر رابطوں کے فقدان اور عدم رسائی کی واضح علامت ہے۔ غزنوی کے مطابق، ایک حالیہ سیاسی مجلس میں مختلف جماعتوں کے نمائندے موجود تھے، مگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اکثریت میں تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سب کے سب اپنی ہی لیگی حکومت سے نالاں نظر آئے۔ شکایات کا انبار تھا، مگر خلاصہ ایک ہی جملے میں سمویا جا سکتا تھا: “کوئی ہمارا فون نہیں سنتا”۔ یہاں تک کہ ایک صوبائی وزیر نے خود اپنی باریابی کے لیے طویل اور صبر آزما مراحل کا ذکر کیا، جبکہ پنجاب اسمبلی کے لیگی اراکین کی صورتحال اس سے بھی زیادہ افسوسناک بیان کی گئی۔ اس نشست میں ایک سابق وزیر نے کھل کر کہا کہ موجودہ حکومت دراصل “سیاسی” نہیں بلکہ “انتظامی” ہے، جہاں فیصلے منتخب نمائندوں کے بجائے غیر منتخب افراد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبہ پنجاب خالصتاً افسر شاہی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پارٹی سیاسی طور پر “ادھ موئی” ہو چکی ہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس نشست کے دوران بھر پور کوشش کی کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کے کچھ مثبت پہلو سامنے لائے جائیں۔ میں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی عوامی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اقدامات کا ذکر کیا مگر محفل میں موجود لیگی رہنماؤں سے ایک بھی مثبت کلمہ نہ کہلوایا جا سکا۔
جب انہوں نے آخری کوشش کے طور پر حکومت کی میڈیا مینجمنٹ کی تعریف کی تو صورتحال مزید دلچسپ ہو گئی۔
حماد غزنوی کے مطابق محفل کے شرکا نے مریم نواز کے لیے ایک لگژری وی آئی پی طیارے کی خریداری کے معاملے پر وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی بونگیوں کی مثال دی جس نے سارا کیس ہی خراب کر دیا۔ پنجاب کے ایک سابق وزیر کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ اس فیصلے کا دفاع کیسے کیا گیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کیا کیسے گیا، کس نے اس کی حمایت کی اور کس نے اس کی منظوری دی۔ یہ پورا عمل حکومتی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اس گفتگو کے دوران پرویز رشید کا نام بھی لیا گیا، مگر شرکاء محفل نے واضح کیا کہ انہیں نہ تو حکومتی مشاورت میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ حماد غزنوی اس صورتحال کو وسیع تر عالمی تناظر میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں حکمرانی کے انداز تبدیل ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کمزور ہو رہی ہے جبکہ انتظامی قوتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں تو ویسے بھی جمہوری ادارے ہمیشہ عدم استحکام کا شکار رہے ہیں، مگر اب یہ کھیل خفیہ نہیں رہا بلکہ کھلے عام کھیلا جا رہا ہے۔ وہ اس نظام کو ایک ایسے کھیل سے تشبیہ دیتے ہیں جس میں نتائج پہلے سے متوقع ہوتے ہیں—جیسے اگر آپ ایک مخصوص راستے پر چلیں تو انجام بھی طے شدہ ہوتا ہے۔
حماد غزنوی مزید مثال دیتے ہیں کہ جیسے انتخابی نظام میں آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ جاتا ہے یا فارم 47 کا رولا پڑ جاتا ہے، اسی طرح موجودہ سیاسی ڈھانچے میں بھی ہر قدم ایک مخصوص سمت کی طرف لے جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ہر حکومت کے قیام اور استحکام کے پیچھے یا تو عوامی حمایت ہوتی ہے یا کسی طاقتور سہارے کی موجودگیاور یہی عنصر اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔
حماد غزنوی اعتراف کرتے ہیں کہ جو لوگ عمر بھر عوامی حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے، وہ موجودہ منظرنامے سے دل شکستہ ہو جاتے ہیں اور وہ خود بھی اس احساس سے مکمل طور پر مبرا نہیں۔ تاہم، سب سے زیادہ بددلی کا شکار میاں نواز شریف ہیں، جو اپنی طویل سیاسی جدوجہد کو اس مقام پر کھڑا دیکھ کر مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ بڑے میاں صاحب کے ایک قریبی سیاسی ساتھی کے بقول، نواز شریف نے اپنا سیاسی سفر جہاں سے شروع کیا تھا، آج وہیں آ کر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر انہیں پہلے ہی معلوم ہوتا کہ انجام یہی ہوگا تو شاید وہ تین بار وزارتِ عظمیٰ، جیلوں اور جلاوطنیوں کی صعوبتیں برداشت نہ کرتے۔ شاید وہ ابتدا ہی میں وہ شرائط قبول کر لیتے جن کے سائے آج کی سیاست پر نمایاں ہیں۔
رانا ثناء اللہ کا احسن اقبال کی جگہ سیکرٹری جنرل بننے سے صاف انکار
حماد غزنوی کے بقول اگرچہ اس وقت جمہوری عمل سست روی کا شکار ہے، مگر یہ کیفیت مستقل نہیں رہے گی۔ جب سیاسی سرگرمیوں پر طاری جمور کا خاتمہ ہوگا گی تو اصل سوال یہ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) اس وقت کس حالت میں ہوگی۔ فی الحال، جب انتظامی حکومتیں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، پارٹی کی سیاست کمزور اور غیر مؤثر دکھائی دیتی ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب میاں نواز شریف کو سب سے زیادہ حوصلے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا حوصلہ کریں، میاں صاحب۔
