نواز شریف نے خاموشی ٹوڑ دی : ’بڑے مجرموں‘ کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف 2023ء میں پاکستان واپسی کے بعد بڑی حد تک سیاسی منظرنامے سے دور رہے ہیں، تاہم بدھ کے روز نومنتخب قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حساس سیاسی معاملات پر اپنی طویل خاموشی توڑ دی۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ ’بڑے مجرم‘ جو جیل میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اقتدار میں لانے کے ذمہ دار تھے، انہیں بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
اگرچہ انہوں نے کسی فرد کا نام نہیں لیا، لیکن 2023ء کے دوران وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر ججوں پر یہ الزام عائد کرتے رہے کہ انہوں نے 2017ء میں انہیں وزیرِ اعظم کے منصب سے ہٹوانے میں کردار ادا کیا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ احتساب ناگزیر ہے، خصوصاً اُن عناصر کا جو جمہوری عمل میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔ مگر احتساب کا عمل کبھی بھی یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے چند مخصوص افراد تک محدود رکھا جانا چاہیے۔
ماضی میں نواز شریف نے عوامی بالادستی کے موقف پر ڈٹے رہنے کی کوشش کی، جس کی قیمت انہیں وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ لیکن صرف ان کا واقعہ پوری تصویر بیان نہیں کرتا۔
عمران خان کے ابھرنے سے بہت پہلے سے ریاستی ادارے حکومتوں کی تشکیل اور برطرفی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جن شخصیات پر نواز شریف نے انہیں ہٹانے کا الزام لگایا، انہی پر بعد ازاں عمران خان کی حکومت ختم کرانے اور مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا بھی الزام لگا۔
مثال کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ وہی آرمی چیف تھے جب نواز شریف کو منصب سے ہٹایا گیا، اور وہی اس وقت بھی تھے جب عمران خان کی حکومت تحلیل ہوئی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان تمام واقعات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، نہ کہ انہیں یک رخا انداز میں دیکھا جائے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاستدان—جن میں خود نواز شریف کی جماعت کے کئی لوگ شامل ہیں—اور مختلف ریاستی ادارے، جن میں عدلیہ بھی شامل ہے، اکثر غیر منتخب قوتوں کے ساتھ مل کر سیاسی حریفوں کو کمزور کرنے کے عمل میں شریک رہے ہیں۔ اس کردار کی مزید چھان بین ضروری ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں نواز شریف غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت پر افسوس ظاہر کرتے ہیں، وہیں ان کی جماعت کے بعض رہنما اسی ہائبرڈ نظام کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں خود احتسابی کریں اور یہ سوچیں کہ وہ کس طرح ایسی فضا بنا دیتی ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کو طاقت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
2006ء میں نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے میثاقِ جمہوریت اس عزم کے ساتھ طے کیا تھا کہ عوامی بالادستی بحال کی جائے گی۔ اس معاہدے میں واضح درج تھا کہ کوئی بھی جماعت اقتدار میں آنے یا کسی حکومت کو گرانے کے لیے فوج سے مدد نہیں مانگے گی۔
تاہم پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف—تینوں جماعتیں اس اصول سے انحراف کرتی رہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ جماعتیں کبھی اس ہائبرڈ نظام کا شکار بنی ہیں اور کبھی اس سے فائدہ بھی اٹھاتی رہی ہیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ایک نئے میثاق کی جانب بڑھا جائے، جس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں اپنے اختلافات پسِ پشت ڈال کر ایک حقیقی جمہوری اور آئینی نظام پر اتفاق کریں اور مل کر اس پر عملدرآمد کو ممکن بنائیں۔
