نواز شریف کو الیکشن میں اپنی فتح کا اتنا یقین کیوں ہے؟

اپنے سب سے بڑے حریف عمران خان کی جیل میں بندش، بچی کھچی پی ٹی آئی سے بلے کے نشان کی واپسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ آشیر باد نے نوازشریف کو انتخابات میں ’فرنٹ رنر‘ بنا دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریفسپریم کورٹ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد آئندہ ہفتے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز پر سپریم کورٹ نے سیاست دانوں کی تاحیات انتخابی نااہلی کے خلاف مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کسی سیاست دان کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔اس عدالتی فیصلے نے نواز شریف کے لیے آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کردی ہے۔ عمران خان کے جیل میں قید ہونے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ مکمل تعاون کے سبب آئندہ انتخابات میں نواز شریف اور ان کی جماعت نون لیگ کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم گزشتہ سال نومبر سے تاخیر کا شکار ہے۔ کیونکہ عمران خان کو دی جانے والی قید اور انتخابی نااہلی کی سزاؤں کے بعد سے ملکی سیاست میں پیدا ہونے والی غیر یقنی صورتحال تاحال قائم ہے۔ تاہم اس کے باوجود جہاں پیپلز پارٹی بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہے اب نون لیگ نے بھی سیاسی میدان مین اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی اور ن لیگ کے مرکزی رہنما پرویز رشید کے مطابق ہم 15 جنوری کو اپنی انتخابی مہم شروع کریں گے۔‘‘ اس دوران نواز شریف ملک بھر میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سابق وزیر اعظم عمران خان سے تعلقات خراب ہونے کے سبب آئندہ انتخابات میں نواز شریف کی مکمل پشت پنائی کر رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق”نواز شریف انتخابات جیتنے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں کیونکہ ان کی پارٹی اور فوج کے مابین تعلقات مضبوط ہوگئے ہیں۔‘‘”پاکستانی سیاست کے منقسم اور انتقام پر مبنی ماحول میں یہ کہنا آسان ہے کہ نواز شریف عمران خان کے ایک سخت ترین حریف ہیں اور اس طرح کی صورت حال فوج کو نواز شریف کے قریب لے کر آتی ہے کیونکہ فوج اس وقت یہ نہیں چاہتی کہ عمران خان اقتدار میں واپس آئیں۔‘‘اسٹیبلشمنٹ کے لیے اس بار نواز شریف ہی واحد قابل اعتماد آپشن دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘تاہم اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اپنے مفادات کی بالادستی اور تحفظ کی خواہاں ہوتی ہے، لہذا، ان کا کوئی مستقل دشمن یا دوست نہیں ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اپنی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے چلا رہی ہے۔ تاہم پی پی پی کے علاوہ دو دیگر بڑی جماعتیں ن لیگ اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک اپنی انتخابی مہمات کا آغاز نہیں کیا۔

پی پی پی کے سربراہ اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے امیدوار بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کی انتخابی مہم میں تاخیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے بھی یا نہیں۔ دوسری جانب عمران خان عوامی جلسے کرنے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے انتہائی مشہور ہیں۔ تاہم وہ اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی جماعت کے رہنماؤں اور حامیوں کو کریک ڈاؤن اور قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر انتخابات میں حصہ لینے میں رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

دوسری جانب  نواز شریف نے الیکشن جیتنے کے بعد کی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ نواز شریف الیکشن جیتنے کے بعد 350 بلین ڈالر کے حجم والی ملکی معیشت کی تعمیر نو کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سابقہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کے ذریعے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے باوجود آئندہ آنے والی حکومت کو بھی شدید مہنگائی، غیر مستحکم کرنسی اور زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

مسلم لیگ کے رہنما پرویز رشید کا کہنا ہے، ”ہم نے ہمیشہ اقتدار میں آ کر اقتصادی محاذ پر کام کیا ہے۔ پچھلی مدت کے دوران نواز شریف کی پالیسیوں کی بدولت اقتصادی ترقی کو ترجیح ملی تھی۔‘‘

خیال رہے کہ نواز شریف سن 1990، 1997ء اور 2013 ء میں وزیر اعظم منتخب ہوچکے ہیں، انہوں نے 2017ء میں اپنی معزولی اور اس کے بعد بدعنوانی کے مقدمے میں سنائی جانے والی سزا کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگایا تھا۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ اس کی تردید کرتی ہے۔

یاسر حسین کی اقراء عزیز کی تصویر بنانے والی کو کھلی دھمکی 

Back to top button