تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف عمارتوں کی بحالی پر کیوں لگ گئے؟

تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے لاہور کی قدیم عمارتوں کی بحالی کی ذمہ دار نئی اتھارٹی کا سرپرست اعلیٰ بننے کا فیصلہ عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ سیاسی طور پر غیر متحرک ہو جانے والے میاں صاحب کو یہ عہدہ قبول کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کو قدیم عمارتیں بحال کرنے کی بجائے مسلم لیگ نواز کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے جو اقتدار میں ہونے کے باوجود تیزی کے ساتھ غیر مقبول ہوتی چلی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے کہنے پر پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور کی قدیم عمارتوں کی بحالی کی ذمہ دار نئی اتھارٹی کے سرپرست اعلیٰ بن گئے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کی صدارت میں ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں لہر نامی اتھارٹی قائم کی گئی ہے جس کا پیٹرن ان چیف نواز شریف کو بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں لاہور کے تاریخی مقامات سے تجاوزات کی نشاندہی اور ہٹانے پر اتفاق کیا گیا- اجلاس میں بتایا گیا کہ لاہور میں کم از کم 115 عمارتیں تاریخی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ نوآبادیاتی دور کی 75 قدیم ترین عمارتوں میں سے 48 کی بحالی کا کام جاری ہے۔
اس اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ مال روڈ پر معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو، آغا شورش کاشمیری اور دیگر ادبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر تختیاں لگا کر انہیں نمایاں کیا جائے گا۔ اجلاس میں شاہی قلعہ، مقبرہ جہانگیر و نور جہاں، شالا مار باغ، کامران کی بارہ دری اور دیگر مقامات کو بھی بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس اجلاس کے بعد لاہور کے پرانے ثقافتی ورثے کی بحالی کے لیے نواز شریف نے جامع پلان طلب کر لیا ہے- انہوں نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارا پرانا لاہور بہت خوبصورت ہے، لہٰذا اسے اس کی اصل حالت میں بحال کیا جانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی ورثے کی کھوئی ہوئی میراث کو واپس لانے کا کام قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دیا جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ شہروں کی اصل اور قدیم صورتحال میں بگاڑ پیدا کرنا مناسب طرز عمل نہیں۔ ’یورپ نے اپنے شہروں کو صدیوں بعد بھی پرانی شکل میں بحال رکھا۔
تاہم تین بار پاکستان کے وزیراعظم بننے والے نواز شریف کو ’لہر‘ کا پیٹرن ان چیف بنانے کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید ہو رہی ہے، نون لیگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹی سی اتھارٹی کا سربراہ بننا میاں صاحب کے شایان شان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نواز شریف کا سیاسی قد کاٹھ متاثر ہو گا۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کو تاریخی عمارات کی تزین و آرائش کی بجائے خود پر غور کرنا چاہیے چونکہ اب وہ بھی ایک سیاسی کھنڈر بن چکے ہیں جس کی بحالی پر توجہ دی جانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کو لاہور کی بحالی کی بجائے اپنی جماعت کی بحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو تیزی سے عوامی مقبولیت کھو رہی ہے۔
تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک مختلف انداز سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ سینئیر صحافی اور تجزیہ کار عاصم نصیر کہتے ہیں کہ اعتراض اٹھ رہا ہے کہ نواز شریف کو اتھارٹی کا پیٹرن ان چیف کیوں بنایا گیا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا سیاسی قد بہت بڑا ہے اور وہ پیچھے رہ کر ہدایات دیتے رہتے تو زیادہ بہتر تھا۔
لیکن عاصم نصیر کو لگتا ہے کہ اس وقت نواز شریف کی توجہ سیاست سے زیادہ ثقافت پر ہے۔ وہ شاید سیاسی پولرائزیشن سے بچنے کے لیے ثقافتی لائن لے رہے ہیں تاکہ انہیں سیاسی موضوعات پر بالکل بھی بات نہ کرنی پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ جو مرضی کہیں لیکن نواز شریف اس وقت اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ سیاسی جھگڑوں سے دور ہیں اور انہوں نے سیاسی مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے بھائی شہباز شریف اور سمدھی اسحاق ڈار کو آگے کیا ہوا ہے۔‘ عاصم نصیر کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف ہمیشہ سے خوبصورتی پسند کرتے ہیں، وہ چاہے رستے ہوں پہاڑ یا پاکستان کی قدیم عمارتیں ان کے ساتھ ان کا لگاؤ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک مثال مری ہے جس کی پرانی شکل بحال کرنے کے لیے میاں صاحب کی ہدایات پر اب بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے مریم نواز کو ٹارگٹ دیا ہے کہ مری کی قدرتی خوبصورتی کو بحال کروائیں۔
بحریہ ٹاؤن کے خلاف کریک ڈاؤن سے پلاٹس خریدنے والے پاکستانی رل گئے
سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا تنقید کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’یہ نہ دیکھا جائے کہ میاں صاحب تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہے ہیں، بلکہ ان کی لاہور کے ساتھ ایک وابستگی دیکھی جائے، وہ خالصتاً ایک لاہوریے ہیں۔ ان کی پیدائش گوالمنڈی لاہور کی ہے لہٰذا اگر وہ اس شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ سلمان غنی نے بتایا کہ نواز شریف کی موجودگی میں بیورو کریسی کا فیتہ بھی کام کرے گا کیونکہ اتنی بھاری بھرکم شخصیت اگر کسی کام کا ذمہ اٹھاتی ہے تو کام کرنے والے اداروں اور لوگوں کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب نواز شریف سیاسی طور پر غیر متحرک ہیں، ایسی مثبت سرگرمیوں میں ان کا کردار ضرور ہونا چاہیے۔
