نواز شریف کو زبردستی اقتدار میں لانے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ نواز شریف اس وقت تک موثر نہیں ہو پائیں گے جب تک عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مقابلہ کسی منطقی انجام تک نہ پہنچے۔ پہلے اسکا فیصلہ ہوگا تو نواز شریف کی عوامی سیاست کا تعین ہو گا۔ عمران خان کا صفحہ آج نواز شریف کے قبضہ میں ہے۔ اگر زور زبردستی چند ماہ میں نواز شریف کو اقتدار پر بٹھا بھی دیا گیا تو اس دفعہ کا نواز شریف ، پہلے کی نسبت انتہائی کمزور وزیر اعظم بن کر آئے گا ۔ انہیں وزیر اعظم بننا چاہیے یا نہیں اسکا جائزہ ان کو خود لینا ہے۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف کو قدم رنجہ فرمائے چارہفتے ہونے کو ہیں ، ان کی آمد سے چند دن پہلے پلک جھپکتے سب معاملات کا ڈگر پر آنا ، دیوار پر کندہ تھا ۔لمحہ فکریہ مگر یہ ھے کہ ان کا ایک غیر معمولی جلسہ دو تین ہفتوں کے اندر گلیوں بازاروں میں زیر بحث نہ رہے ۔ لوگ عمران خان اور ملکی سیاست کے مستقبل بارے بحث میں اُلجھ جائیں یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔ زمینی حقیقت یہ ھے کہ پاکستان کی سیاست کامستقبل عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی دھینگا مشتی کے نتائج سے نتھی ہے ۔ جب تک کسی کے چاروں شانے چت رہنے کا فیصلہ نہ ہوا صورت حال ڈانوا ڈول ھی رھے گی۔ سوال یہ ھے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ موجودہ تنازعے میں مروجہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے لیے’’ انصاف‘‘لے پائی ہے ۔ سپریم کورٹ کا فوجی عدالتوں کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ تو اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا نہیں سکا۔ وزیر اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں عدالتی فیصلے پر عمل داری لمحوں میں ہو ئی کہ سویلین ادارہ تھا۔ فوجی عدالتوں کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ اب تک نافذالعمل نہیں ہو سکا کہ اسٹیبلشمنٹ شاید وطنی آئین اور قانون کی عمل داری میں متذبذب ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملزمان کو عسکری تحویل میں رکھنا، مملکت کے اندر آئین اور قانون کی عملداری کی صریحاً نفی ہے اور ریاست کیلئے کسی طور فائدہ مند نہیں۔ بہرحال سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کی باہمی کشمکش ملکی سیاسی بحران پر علیحدہ اثرات ڈالتے ہیں۔
حفیظ اللّہ نیازی کا کہنا ھے کہ جو کچھ ہو چکا ہے ، ہو رہا ہے ، ہونے کو ہے ، اسکا لب لباب اتنا، ھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان پچھلے پونے دو سال سے خم ٹھونک کر ایک دوسرے کیخلاف صف آرا ہیں۔ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے کاموں میں برابر کے شریک رہے ۔ مہرہ بن کر وزیراعظم بنے تو رفعتیں پائیں ۔ ساڑھے تین سال اس تعلقِ خاطر پہ رعونت سے اِتراتے پھرے ۔ مخالفین کا جینا اجیرن رکھا ۔ جیسے ہی اقتدار سے علیحدہ ہوئے ، اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہہ کر عوام الناس میں پہلی دفعہ غیر معمولی پذیرائی پائی ۔ اس سارے عمل کی اصل ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ کی قیادت ہی تھی جس نے جوڑ توڑ کے کھیل میں مملکتِ خداداد کو ویڈیو گیم بنائے رکھا۔ آج دونوں فریق اپنی اپنی طاقت کے زعم میں ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کمر بستہ ہیں ۔ دونوں میں سے ایک کا وجود تحلیل ہوئے بغیر مملکت دوراہے پر رہنی ہے اور بحران سے نکل نہیں پائے گی ۔ عمران خان کو’’رائے عامہ‘‘ پر بھروسہ ھے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ریاستی طاقت، فائر پاور اور فائٹر فورس سے لیس ھے ۔سوال یہ ھے کہ کیا اگلے دو ماہ میں عمران خان کا مکو ٹھپ دیا جائے گا ؟ خاطر جمع رکھیں، 14سال یا 24 سال جیل عمران خان کا بال بیکا بھی نہیں کر پائے گی ۔ جیل کی قید و بند نے کبھی کسی لیڈر کو قصہ پارینہ نہیں بنایا ۔ جیل پاکستان کے سیاستدانوں کے وارے میں ہے۔ انگریز بہادر اس لیے ہی تو سیاسی لیڈروں کو ملک بدر اور کالا پانی بھیجنے کو ترجیح دیتا تھا ۔ نواز شریف کی مثال سامنے ھے کہ انہیں کس شد ومد کیساتھ باہر بھجوایا گیا تھا مگر نتیجہ کیا نکلا ۔
حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ اگرچہ ’’مکو ٹھپنے‘‘ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور عمران خان مکاؤ‘‘منصوبہ شدت سے جاری ہے ۔ بظاہر میاں نواز شریف آتے ہی بطور نامزد وزیراعظم اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر چکے ہیں ۔ پچھلے ایک سال سے اسٹیبلشمنٹ نے جو کچھ بنایا اسکے ثمرات دن دہاڑے سمیٹنےکیلئے نواز شریف مستعد ہیں ، انہیں ثمرات سے نوازا جارہا ہے۔ ویسے ہی جس طرح’’پروجیکٹ عمران خان ‘‘ کی ترتیب تخلیق و تشکیل اور کامیابی سے ہمکنار کرتے وقت سارے مراحل طے ہوئے۔ماضی اپنے آپ کو دُہرانے والا ھے ،بلوچستان سیاست پکے پکائے پھل کی طرح نواز شریف کی گود میں آگئی ، سندھ، چترال تا گلگت بلتستان بشمول کشمیر چھوٹے بڑے سیاسی گروپ بھی’’ چشم ماروشن دل ماشاد‘‘ کئے ھوئے ہیں اور جنوبی پنجاب کی سیاست گھر کی باندی رھے گی ۔ عمران خان کا صفحہ آج نواز شریف کے قبضہ میں ہے اگرچہ چند باتیں ایسی بھی جو دونوں میں مماثلت نہیں رکھتیں ۔ 2018 میں سیاست کا محور نواز شریف ضرور تھے مگر سیاسی میدان میں بظاہر ان کا مقابلہ عمران خان سے تھا۔ آج عمران خان کا کُلی مقابلہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے۔ آج کی عدالتیں شاید اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی طرح فری ہینڈ نہ دیں۔ دوسری طرف عمران خان کی سیاسی حمایت غیر معمولی متحرک اور موثر ھے ۔ یہ لوگ سوشل میڈیا اور مرکزی میڈیا کو بھر پور استعمال کر رھے ہیں جسکا کوئی حل ھے نہ کوئی توڑ ۔ جبکہ نواز شریف کو 2014 سے 2022
پاور سیکٹر میں ہونے والے کھربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون؟
تک یکطرفہ معاندانہ میڈیا کا سامنا رہا۔
