سپریم کورٹ میں آئی ایس آئی پر الزامات کی بوچھاڑ

سپریم کورٹ میں جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے کیس میں جج حضرات تب غصے میں آ گئے جب حامد خان ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ 2018 میں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے آئی ایس آئی کے دباؤ پر شوکت صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ دیا. حامد خان نے کہا کہ انکوائری کے بغیر جج کو نکالنے کی مثال بن گئی تو کسی بھی جج کو کسی بھی بنیاد پر کبھی بھی برطرف کر دیا جائے گا۔ اس الزام پر ردعمل دیتے ہوئے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل صفائی حامد خان ایڈووکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محترم، آپ کے مؤکل نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں جو تقریر کی وہ عدلیہ کے خلاف تھی، موصوف فوج کے خلاف بولتے تو پتہ چل جاتا ان کا کتنا زور ہے، اس پر حامد خان نے کہا کہ میرے مؤکل نے عدلیہ کے حق میں بات کی تھی اور واضح طور پر بتایا تھا کہ آئی ایس آئی اپنی مرضی کے فیصلے لینے کے لئے ججوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کسی جج کی برطرفی سے قبل ان پر لگنے والے الزامات کی مکمل انکوائری لازمی قرار دیتا ہے جب کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں ایسا نہیں کیا گیا اور صرف ایک ہی سماعت کے بعد انھیں برطرف کرنے کا فیصلہ سنا دیا گیا جس کے پیچھے آئی ایس آئی کا دباؤ تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ سابق جج شوکت صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کی کی سماعت کر رہا ہے۔ یہ اپیل جسٹس صدیقی نے 2018 میں برطرفی کے بعد دائر کی تھی جس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو پایا۔ یاد رہے چونکہ جسٹس صدیقی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر عدلیہ پر دباو ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے لہذا ان کے دور میں یہ کیس سرد خانے میں پڑا رہا تھا۔ تاہم اب ان کے بطور کور کمانڈر پشاور تبادلے کے بعد اس کیس کی سماعت شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن جسٹس گلزار کی جانب سے عدلیہ کی آزادی کے حالیہ دعوے کے باوجود جج حضرات اب بھی دباو میں نظر آتے ہیں کیونکہ مستقبل میں فیض حمید آرمی چیف کے عہدے کے امیدوار ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ نے فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلے میں لکھا کہ تحریک لبیک پاکستان بھی مدعی تھی، تو یہ بتائیں کے تحریک لبیک کا مدعا کیا تھا۔ حامد خان نے کہا کہ ٹی ایل پی کی شکایت تھی کہ الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم واپس لی جائے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ یعنی پٹیشن دھرنے کے دوران ہائی کورٹ میں دائر کی گئی، فیض آباد دھرنا کیس میں 27 نومبر 2017کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے حامد خان سے کہا کہ آپ نے کہا یہ اہم فیصلہ تھا جس میں فیض آباد دھرنا ختم کرنے کے معاہدے کا ذکر بھی ہے۔ حامد خان نے کہا کہ اس معاہدے کے حوالے سے جسٹس صدیقی نے دو نکات اٹھائے تھے، معاہدے پر جنرل فیض حمید کے دستخط بھی تھے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے حاضر سروس افسران پر آبزرویشنز بغیر نوٹس کے کیسے دے دیں، ایسا کر کے فاضل جج نے اپنے اختیار سے تجاوز کیسے کیا؟۔
حامد خان نے کہا کہ جج نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا تھا، جس پر جسٹس سردار طارق نے کہا جب فوج اور اس کے حاضر سروس افسران کے خلاف شکایت ہی نہیں تھی تو کیا جج موصوف نے ازخود نوٹس لیا تھا، کیا ہائی کورٹ کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار تھا۔
حامد خان نے بتایا کہ اگر کوئی غیر قانونی بات سامنے آئے تو عدالت اس پر نوٹس لے سکتی ہے، جسٹس سردار طارق کا کہنا تھا کہ فاضل جج نے حکم میں کہا کہ جو عمل کیا گیا وہ غیر قانونی ہے۔ بعد ازاں جس حاضر سروس افسر کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے غیر قانونی عمل کیا، وہی افسر آپ کے گھر میں بیٹھا تھا، ایسا کیوں ہوا؟۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پھر موصوف کہتے ہیں کہ وہ افسر ان کے گھر آیا اور اثر ان پر انداز ہونے کی کوشش کی، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ آپ جس فیصلے کے ساتھ جج کی برطرفی کا تعلق جوڑ رہے ہیں اس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے دو نوٹس جاری کیے تھے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹسز پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ یہی عمل بتاتا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے خلاف فیصلہ دینے والی سپریم جوڈیشل کونسل آئی ایس آئی کے کتنے زیر اثر تھی۔ جسٹس عمر عطابندیال نے حامد خان کی اد دلیل پر کہا کہ خان صاحب، آپ ایک سینئر وکیل ہیں، ایسے نہ کریں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن اب آپ نے باونڈری کو ہٹ کرنا شروع کر دیا ہے، برائے مہربانی ججوں پر اس طرح کے الزامات مت دھریں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم کہتے ہیں ہمارے فیصلوں کو جتنا چاہیں تنقید کا نشانہ بنائیں، لیکن فیصلوں کی آڑ میں ججوں پر الزامات نہ لگائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جج بول نہیں سکتے، ان کا کوئی پی آر او بھی نہیں ہوتا، میں بھی سپریم جوڈیشل کونسل کا رکن ہوں جس پر آپ دباؤ لینے کا الزام لگا رہی ہیں، اس پر حامد خان نے کہا آپ اس سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ نہیں تھے جس پر الزام لگایا جا رہا ہے۔
جسٹس عمر عطابندیال نے حامد خان کو مخاطب کرکے کہا کہ محترم آپ کے مؤکل نےتقریر عدلیہ کے خلاف کی، فوج کے خلاف کرتے تو پتہ چل جاتا ان کا کتنا زور ہے، جس پر حامد خان نے کہا کہ میرے مؤکل نے عدلیہ کے حق میں بات کی۔ تاہم بینچ کے سربراہ نے کہا کہ آپ کے مؤکل نے تقریر میں حدود سے تجاوز کیا۔
اس موقع پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کو راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں تقریر کرنے پر شوکاز ہوا، وہ تقریر نہ ہوتی تو شوکاز نوٹس بھی نہ ہوتا۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ جج کی بار یا پبلک فورم پر تقریر حدود و قیود میں ہوتی ہیں، جج کا کام نہیں کہ وہ قومی اداروں یا حکومت کی تحقیر شروع کر دے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ کا جج ملک کی خارجہ پالیسی پر تقریر نہیں کر سکتا، بطور جج ایسی تقاریر کرنا ہمارا کام نہیں، انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ بطور ہائی کورٹ کے جج ںہوں نے جو تقریر کی وہ مس کنڈکٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روزانہ دس منٹ کی دوڑ دماغ اور موڈ کو خوشگوار رکھے
اس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ جسٹس ایم آر کیانی نے مارشل لاء کے خلاف تقاریر کی تھیں، وکلا تحریک کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی بار کونسلز میں جا کر تقاریر کیں۔ لہذا ایسی مثالیں موجود ہیں اور ان ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔ اس پر جسٹس سردار طارق نے کہا کہ جسٹس ایم آر کیانی نے اپنے ادارے کی تضحیک نہیں کی تھی۔ حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آپ آئی ایس آئی کے خلاف کی جانے والی تقریر کو عدلیہ کی تضحیک کیسے قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کسی جج کو نکالنے سے پہلے انکوائری لازمی قرار دیتا ہے، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الزامات کی انکوائری ضروری ہے۔ حامد خان نے کہا کہ انکوائری کے بغیر جج کو نکالنے کی مثال بن گئی تو کسی بھی جج کو کسی بھی بنیاد پر کبھی بھی برطرف کر دیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔