الیکشن سے قبل ہی نواز شریف نے عمران خان کو پیچھے چھوڑ دیا

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف قبولیت کے بعد مقبولیت کی منازل تیزی سے طے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔تازہ ترین سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف پنجاب میں مقبول ترین لیڈر بن کر ابھرے ہیں، قومی سطح پر دیکھا جائے تو وہ عمران خان کے مدمقابل آتے جا رہے ہیں.
سینئر صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر نواز کی مقبولیت 36فیصد سے بڑھ کر 52فیصد جبکہ عمران خان کی مقبولیت 60 سے کم ہوکر 57فیصد ہوگئی ہے ، سراج الحق پنجاب میں تیسرے مقبول ترین رہنما، بلاول بھٹو چوتھے اور سعد رضوی کا پانچواں نمبر ہے جبکہ قومی سطح پر نواز شریف، فضل الرحمان اور خالد مقبول کے علاوہ سروے میں شامل تمام رہنما مقبولیت کھو چکے ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت کا گراف اوپر جبکہ جیل میں جانے کے بعد سے عمران خان کا گراف نیچے جا رہا ہے۔
گیلپ پاکستان کی جانب سے کرائے جانے والے سروے کے نتائج جمعرات کو جاری کئے گئے۔ اس سروے میں عوام کے سیاسی موُڈ کا پتہ لگایا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نون لیگ پنجاب میں اپنا کھویا مقام دوبارہ حاصل کر رہی ہے۔ سروے میں شامل افراد سے ان کی پسندیدہ شخصیات کے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ ایک سروے گزشتہ سال جون جبکہ دوسرا گزشتہ سال دسمبر میں کیا گیا تھا۔
اس عرصہ کے دوران عوام کی رائے میں تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نواز شریف پاکستان واپسی کے بعد سے مقبول ہو رہے ہیں۔ قومی سطح پر نواز شریف کی مقبولیت 36 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصدہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں عمران خان کی مقبولیت 60 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد ہو چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کا موڈ نواز شریف کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نواز شریف آئندہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اس کے برعکس، عمران خان کے حوالے سے ایسا کوئی امکان مستقبل قریب کیلئے نظر نہیں آتا۔ اسی رجحان کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ عمران خان اب بھی قومی سطح پر سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں، لیکن ان کی مقبولیت زوال پذیر ہے جبکہ نواز شریف کی مقبولیت کی شرح اوپر جا رہی ہے۔ مستقبل کے وزیراعظم کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار اد کرنے والے صوبے پنجاب کی سطح پر دونوں رہنماؤں کی مقبولیت کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو نواز شریف کا اسکور عمران خان سے زیادہ ہے۔
صوبائی سطح پر اس حوالے سے واحد سروے دسمبر میں کیا گیا تھا جس میں نواز شریف کی مقبولیت 60 فیصد اور عمران کی 53 فیصد تھی جبکہ پنجاب میں تیسرے مقبول ترین رہنما جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی مقبولیت 36 فیصد ہے۔ بلاول بھٹو 34 فیصد مقبولیت کے ساتھ ان سے پیچھے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے سعد رضوی 31 فیصد مقبولیت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔ ان کے بعد مولانا فضل الرحمان کی مقبولیت 27 فیصد جبکہ جہانگیر ترین کی مقبولیت21 فیصد ہے۔ قومی سطح پر تمام رہنماؤں کی مقبولیت کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو ماسوائے نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور خالد مقبول صدیقی، سروے میں شامل تقریباً تمام رہنما مقبولیت کھو چکے ہیں جبکہ عمران خان کی ریٹنگ میں تین فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسی طرح سعد رضوی کی عوامی مقبولیت بھی سات ماہ کے عرصے میں 38 فیصد سے 28 فیصد یعنی 10 فیصد نیچے آ گئی ہے جبکہ بلاول بھٹو کی مقبولیت میں 36 فیصد سے 35 فیصد تک ایک فیصد کمی آئی ہے۔ مجموعی طور پر عوام کا موُڈ بتاتا ہے کہ اگر آج الیکشن ہوتے ہیں تو پنجاب میں پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان فرق صرف دو فیصد ہے جو اس سروے کے غلطی کے مارجن کے اندر ہے اور اس وجہ سے اعدادوشمار کے لحاظ سے یہ فرق غیر معمولی ہے۔ تاہم یہ کم ہونے والا فرق دونوں جماعتوں کی نشستیں حاصل کرنے کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ 2018 کے انتخابات میں دونوں جماعتوں کی پوزیشن یکساں رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کو 36 فیصد اور مسلم لیگ ن کو 35 فیصد ووٹ ملے تھے اور صرف دو نشستوں کا فرق تھا۔ پی ٹی آئی نے 63 اور نون لیگ نے 61 نشستیں حاصل کی تھیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت 2024 میں بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے جو کہ 2018 میں صرف 37 فیصد تھی۔ جے یو آئی ف کی مقبولیت کی شرح 15 فیصد ہے، نون لیگ 9؍ فیصد جبکہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کی 7؍ فیصد ہے۔ تاہم اگر جے یو آئی ف کے گڑھ جنوبی خیبر پختونخوا اور نون لیگ کے گڑھ ہزارہ ریجن میں دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد ہوا تو پی ٹی آئی کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہے۔ مالاکنڈ میں بھی ایسا ہی ہونے کی توقع ہے جہاں اے این پی اور پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ہے جس سے پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
