نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہونے لگی؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے احتساب عدالت کی سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف دائر کی گئی اپیل بھی نیب نے واپس لے لی ہے۔عدالتی فیصلے سے نواز شریف کو بڑا ریلیف ملا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ العزیزیہ ریفرنس کی اپیل پر فیصلہ آنے کے بعد نواز شریف وزیراعظم بننے کی اہل بھی ہو جائیں گے۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادرکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے تو 4 سال پہلے جب پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تھا تب ہی کہہ دیا تھا کہ یہ فیصلہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بھی بہت سی بنیادی غلطیاں تھیں اور میں نے تب بھی کہا تھا کہ یہ سزائیں ختم ہو جائیں گی اور نواز شریف کو بری کر دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے کیس کی اپیل کا جب فیصلہ آیا تھا اس وقت بھی میں نے یہی کہا تھا کہ جس طرح مریم نواز کو بری کیا گیا اسی طرح نواز شریف کو بھی بری کیا جائے گا۔عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی جو نااہلیاں کر رہا تھا وہ بھی غلط تھیں اور نواز شریف کی نااہلی بھی غلط تھی، سپریم کورٹ یا عدالتوں کا کوئی کام نہیں ہے کہ وہ کسی منتخب حکومت کو گھر بھیجے اور کسی شخص کو نااہل قرار دے، یہ سب کچھ غلط ہوا تھا۔
دوسری جانب پاکستان پار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے یہ ریفرنس بنائے گئے تھے اور سزا دلوائی گئی تھیں اسی طریقے سے ختم ہو گئی ہے۔حسن رضا پاشا نے کہا کہ سزائیں دلوانے والا بھی ایسا طریقہ کار تھا جس کی کوئی مثال نہ تھی، سپریم کورٹ کے ایک جج مانیٹرنگ جج کے طور پر بیٹھے تھے، جے آئی ٹی بنی اور ایک ہی نوعیت کے 3 ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی جبکہ آئین یہ کہتا ہے کہ ریفرنس ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے شریک ملزمان مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو بری کر دیا گیا اور نیب نے ان کی بریت کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی، جب ایک جیسی شہادتوں پر 2 شریک ملزمان کو بری کر رہے ہیں تو تیسرے کو کیوں نہیں بری کر سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب اثاثے آمدن سے زائد کا کیس ہوتا ہے تو پہلے تو ملزم کی آمدنی بتائی جاتی ہے اور پھر اثاثوں کا تعین کیا جاتا ہے اور پھر موازنہ کیا جاتا ہے لیکن یہ دونوں چیزیں اس کیس میں سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔
حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف اب صرف ایک کیس العزیزیہ ریفرنس کا رہ گیا ہے اگر اس میں وہ بری ہو جاتے ہیں تو پھر نواز شریف کی نا اہلی کہاں گئی، انہی کیسز کی بنیاد پر نااہلی ہوئی تھی، اب سارے کیسز ختم ہو گئے تو کدھر جائے گی نااہلی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ نواز شریف کے لیے اگے آسانیاں ہی آسانیاں نظر آرہی ہیں اور راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار حامد میر نے نواز شریف کی بریت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نیب سے پوچھنا چاہیے کہ اس نے ریفرنس دائر کیوں کیا تھا اور اب واپس کیوں لے لیا ہے۔حامد میر نے کہا کہ نیب نے قوم کو بے وقوف کیوں بنایا، اتنا ٹائم ضائع کیا اور تفتیش میں بہت سے پیسے خرچ کیے جس وقت نیب نے ریفرنس دائر کیا تھا اس وقت کہا جاتا تھا کہ نواز شریف نے کرپشن کی ہے اور نواز شریف کو سزا ملنی چاہیے اور اب نیب نے اپنی اپیل ہی واپس لے لی ہے۔
حامد میر نے سوال کیا کہ نیب کے جن لوگوں نے ایک سابق وزیراعظم کے خلاف ریفرنس فائل کیا، قوم کا وقت اور سرکاری خزانے کا خرچ کیا، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی اپ کیا اہمیت رہ گئی ہے، میرے خیال میں نیب کو بند ہونا چاہیے، نیب پہلے کہتا تھا کہ نواز شریف چور ہے اور اب کہتا ہے کہ نواز شریف بے قصور ہے، یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آج نیب نے نواز شریف کے خلاف اپنی اپیل واپس لے لی ہے کل کو عمران خان کے خلاف فیصلہ سنا دیا جائے گا لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد نیب پھر سے عمران خان کے خلاف اپیل واپس لے لی گی، یہ بہت بڑا مذاق ہے عوام کے ساتھ۔
