نواز شریف کے دیرینہ دوست کی پاکستان ریلویز پر نظریں

گزشتہ ایک طویل عرصے سے پاکستان ریلویز خسارے، فرسودہ انفراسٹرکچر اور کمزور کارکردگی جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ ایسے میں ملک کی ایک بڑی کاروباری کمپنی نشاط گروپ کے سربراہ اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے دیرینہ دوست میاں منشا نے پاکستان ریلویز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کر دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد پی آئی اے کے بعد ریلوے کی حالت زار بدلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق میاں منشاء کی جانب سے خسارے کا شکار پاکستان ریلویز میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو فروغ دے رہی ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے میاں منشا کو جاری اور مجوزہ منصوبوں پر بریفنگ دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نجی سرمایہ کاروں کو سنجیدگی سے خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔ اس ماڈل کے تحت پہلے ہی کئی ٹرینیں نجی شعبے کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف ٹریک اور ٹرینوں کی حالت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ مال برداری کے نظام کو بھی فروغ ملے گا، جس سے سڑکوں پر بوجھ کم ہوگا اور لاگت میں کمی آئے گی جبکہ ریلوے اسٹیشنز کے اطراف کمرشل سرگرمیوں جیسا کہ شاپنگ مالز، ہوٹل اور دفاترکے فروغ سے آمدن کے نئے ذرائع بھی پیدا ہونگے جو پاکستان ریلویز کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نشاط گروپ کے روح رواں میاں محمد منشا نے لاہور میں پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران نہ صرف ادارے کے مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا بلکہ ادارے میں سرمایہ کاری کیلئے اپنی بھرپور دلچسپی کا بھی اعادہ کیا۔ میاں منشا نے نہ صرف خود سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی بلکہ دیگر سرمایہ کاروں کو بھی اس شعبے میں آنے کی ترغیب دی، ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں وقت ہے کیونکہ ادارہ بہتری کی جانب گامزن ہے اور شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بزنس فیسلیٹیشن سینٹر اور جدید مانیٹرنگ نظام کا قیام بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو آسان اور مؤثر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام محض نجکاری نہیں بلکہ ایک جامع سٹریٹجک شراکت داری کی طرف پیش رفت ہے۔ ان کے خیال میں اگر نجی شعبے کو ادارے میں شفاف اور مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تو پاکستان ریلویز نہ صرف منافع بخش بن سکتی ہے بلکہ مجموعی قومی معیشت کو بھی سہارا دے سکتی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے خستہ حال ریلوے ٹریک اور ٹرینوں کی حالت بہتر ہو سکتی ہے، جس سے حادثات میں کمی آئے گی اور سفر زیادہ محفوظ بنے گا۔ اسی کے ساتھ مال برداری کے نظام کو فروغ ملے گا، جو اس وقت زیادہ تر سڑکوں پر انحصار کرتا ہے۔ اگر فریٹ سروس کو ریلوے کی طرف منتقل کیا جائے تو سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، ایندھن کے اخراجات میں کمی آئے گی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی ممکن ہو سکے گی۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ریلوے سٹیشنز کے اطراف کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دینے کے منصوبے بھی نجی سرمایہ کاروں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ریلوے اسٹیشنز کے قریب شاپنگ مالز، ہوٹل، پارکنگ پلازہ اور دفتری عمارتوں کی تعمیر نہ صرف شہری ترقی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ پاکستان ریلویز کے لیے آمدن کے نئے اور پائیدار ذرائع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ اس طرح ریلوے صرف ایک ٹرانسپورٹ ادارہ نہیں بلکہ ایک کمرشل حب کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے بقول مالی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ریلویز ایک طویل عرصے تک خسارے کا شکار رہا ہے۔ 2010 سے 2020 کے دوران ادارے کو سینکڑوں ارب روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑے، جبکہ بعد کے برسوں میں بھی خسارہ برقرار رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔ 2023-24 میں ادارے نے معمولی منافع حاصل کیا جو بعد میں بڑھ کر اربوں روپے تک پہنچ گیا۔ اس بہتری کی ایک بڑی وجہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیے گئے اقدامات ہیں، جن کے ذریعے اس وقت متعدد مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے تعاون سے چلائی جا رہی ہیں جس کے بعد ادارے کی آمدن میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایسے میں میاں محمد منشا کی پاکستان ریلوے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کو ماہرین ایک ممکنہ گیم چینجر قرار دے رہے ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پیشرفت کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ شفافیت، پالیسی کا تسلسل، سیاسی استحکام اور مؤثر نگرانی ایسے عوامل ہیں جو اس عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوں گے۔ اگر ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے نجی شعبے کو شامل کیا گیا تو پاکستان ریلویز ایک جدید، منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ موقع بھی ماضی کی طرح ضائع ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ماہرین کے مطابق میاں منشاء کی سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی پاکستان ریلویز کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہےجہاں یہ ادارہ یا تو ایک نئے ترقیاتی دور میں داخل ہو سکتا ہے یا پھر ہمیشہ کیلئے پرانے مسائل کے گرداب میں پھنسا رہ جائے گا۔
