لوہے کے کاروبار سے سیاست کے بازار میں آنے والے نواز شریف کی کہانی

معروف کالم نگار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی دوست عطاءالحق قاسمی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی عمر 75 سال ضرور ہو گئی ہے، مگر ان کے گرد گھومنے والی ملکی سیاست آج بھی نو عمر اور نا سمجھ دار ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں عطاالحق قاسمی کہتے ہیں کہ قائدِاعظم محمد علی جناح کے برابر میں نواز شریف کا نام لکھنا بہت عجیب سا لگتا ہے، لیکن یہ نواز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ ان دونوں کی سالگرہ کا دن ایک ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 75 برس کوئی معمولی عدد نہیں۔ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان نہیں، تاریخ بولنے لگتی ہے۔ اور جب تاریخ بولے تو عام طور پر ہم کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں، مگر کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو انگلیوں کے درمیان سے بھی راستہ بنا لیتی ہیں۔ نواز شریف بھی انہی آوازوں میں سے ایک ہیں۔

عطاءالحق قاسمی لکھتے ہیں کہ 75 برس مکمل کرنے پر نواز شریف نہ صرف ایک فرد ہیں بلکہ ایک پورا عہد محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا عہد جو کبھی جلاوطنی میں ملا، کبھی وزارتِ عظمیٰ میں، کبھی عدالتوں کے کمرے میں اور کبھی لندن کی سرد فضا میں گرم سیاسی بیانات کی صورت۔ نواز شریف کی زندگی کو اگر مختصر کیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو قسطوں میں لکھا ہو اور ہر قسط کے آخر میں لکھ دیا ہو: جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں اشتہار نہیں آتا، صرف انتخابات آ جاتے ہیں۔

عطا قاسمی کے مطابق یہ بات اب طے ہے کہ نواز شریف سیاست میں اتفاقیہ نہیں آئے۔ وہ لوہے کے کاروبار سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے اور پھر اقتدار کے ایوانوں سے جیل کے صحن تک، اور جیل سے باہر آ کر پھر وہیں پہنچ گئے جہاں سے نکلے تھے، یعنی عوام کے درمیان۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں بہت سے لوگ راستے میں ہی اتر جاتے ہیں، کچھ ٹائر پنکچر کرا بیٹھتے ہیں اور کچھ یوٹرن لے لیتے ہیں۔ نواز شریف کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر بار سیدھی سڑک پر واپس آ جاتے ہیں، چاہے سڑک پر بیریئر ہی کیوں نہ لگے ہوں۔

قاسمی کہتے ہیں کہ 75 سال کی عمر میں عام آدمی سہارے کے لیے چھڑی تلاش کرتا ہے، لیکن نواز شریف بیانیہ تلاش کرتے ہیں اور عموماً ڈھونڈ بھی لیتے ہیں۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ میاں صاحب ماضی میں جیتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان میں حال اتنا بے یقین اور مستقبل اتنا بے اعتبار ہے کہ ماضی ہی واحد محفوظ جگہ لگتی ہے۔ نواز شریف کا ماضی کم از کم ان کا اپنا تو ہے۔

قاسمی کے مطابق نواز شریف کی سیاست کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خاموش رہیں تو لوگ کہتے ہیں وہ بول کیوں نہیں رہے، اور بولیں تو کہتے ہیں کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں۔ ان کے لیے درمیانی راستہ شاید کبھی بنایا ہی نہیں گیا، یا تو مکمل خاموشی یا مکمل خبر۔

 

نواز شریف نے 75 برس میں اتنے کم بیک کیے ہیں کہ کرکٹ ٹیم بھی رشک کرتی ہوگی۔ ایک زمانہ تھا جب ان کے جانے پر کہا گیا کہ اب انکی سیاست ختم ہو گئی، لیکن پھر واپسی پر اعلان ہوا کہ اب انکی سیاست پھر شروع ہو گئی ہے۔ گویا سیاست کوئی سوئچ ہے جو صرف نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔

عطاءالحق قاسمی کہتے ہیں کہ نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہیں جنہیں باہر نکالا جاتا ہے تو وہ باہر ہو کر بھی اندر کی سیاست کرتے رہتے ہیں۔ لندن میں بیٹھ کر پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہونا بھی ایک فن ہے، اور یہ فن ہر ایک کے حصے میں نہیں آتا۔ کچھ لوگ لندن جا کر صرف موسم کی شکایت کرتے ہیں، نواز شریف وہاں جا کر موسمِ سیاست بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف نے پاکستان میں ترقی کا خواب بیچا، سڑکیں، موٹرویز، بجلی، کارخانے۔ عوام نے خواب خریدا، کچھ نے قسطوں پر، کچھ نے نقد، اور کچھ نے خواب ہی واپس کر دیا۔ مگر خواب دکھانے کی ہمت ہر سیاست دان میں نہیں ہوتی۔ کچھ تو آنکھیں بھی بند کروا دیتے ہیں۔

پارٹی رہنما بھی نواز شریف کی خاموشی پر سوال کیوں اٹھانے لگے؟

قاسمی کہتے ہیں کہ 75 سال کی عمر میں اگر کوئی شخص سیاسی مرکزِ نگاہ ہو تو یہ اس کی کامیابی ہے یا ناکامی، اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ فی الحال تو حال یہی کہتا ہے کہ نواز شریف اب بھی موضوع سیاست ہیں، اور پاکستان میں موضوع ہونا خود ایک اعزاز ہے، کیونکہ یہاں موضوعات بہت جلد بدل جاتے ہیں، مگر نواز شریف نہیں بدلتے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا لیکن سیاست مستقل ہو سکتی ہے۔ عہدے چھن سکتے ہیں، مگر اثر نہیں۔ عہد ختم ہو سکتے ہیں، مگر کردار نہیں۔ 75 سال مکمل ہونے پر اگر ہم نواز شریف کو مبارکباد دیں تو دراصل ہم پاکستان کی سیاست کو مبارکباد دے رہے ہیں کہ اس نے ایک ایسا کردار پیدا کیا جو ہر بحران میں واپس آ جاتا ہے، ہر صفحے پر دوبارہ لکھا جاتا ہے اور ہر اختتام پر پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔

 

Back to top button