سپریم کورٹ کا فیصلہ، نواز شریف انتخابی سیاست سے مکمل آوٹ؟

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ نے کثرت رائے سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا تاہم مذکورہ فیصلہ مؤثر بہ ماضی نہیں لہٰذا اس کا اطلاق گزشتہ عدالتی فیصلوں پر نہیں ہوگا کیونکہ ماضی میں دیے گئے فیصلوں پر اپیل کا حق دینے والی ایکٹ کی شق کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندو خیل نے اپیل کا حق ماضی سے دینے کی حمایت کی تاہم اکثریتی ججز نے اس فیصلے سے اختلاف کیا جس پر اس شق کو کالعدم قرار دیا گیا۔سپریم کورٹ نے ایکٹ کے تحت ماضی سے اطلاق کی شق 7-8 سے مسترد کردی جس کے بعد اپیل کا حق ماضی کے فیصلوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔‘

اب سوال یہ ہے کہ کیا ماضی میں کیے گئے فیصلوں پر اپیل کا حق نہ ملنے سے مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد نواز شریف، استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر خان ترین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تاحیات نااہلی برقرار رہے گی؟ سپریم کورٹ کی جانب سے اس شق کو کالعدم قرار دیے جانے کی وجہ سے کون سے رہنماؤں کو نقصان ہو گا؟

وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے سے میاں نواز شریف اور دیگر رہنماؤں کو ہونے والے نقصان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ حسن رضا پاشا نے کہا کہ ماضی کے فیصلوں پر اپیل کے حق سے متعلقہ شک کو کالعدم قرار دینا نواز شریف کی انتخابی سیاست میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کی گئی تھی جس کے تحت نااہلی کی حد 5 سال مقرر کی گئی تھی لیکن آئین کے آرٹیکل 61 2ایف میں نااہلی کی مدت کا ذکر نہیں ہے تو اگر آرٹیکل 261 ایف میں تاحیات نااہلی کا لکھا ہوتا تو نواز شریف کو مشکل ہو سکتی تھی۔حسن رضا پاشا نے کہا کہ نواز شریف کو انتخابی سیاست سے دور رکھنے میں ایک رکاوٹ ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نا اہلی سے متعلق فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 261 ایف کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ نااہلی تاحیات ہے اب مسلم لیگ ن کے پاس ایک راستہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں نواز شریف کی نااہلی کو تاحیات قرار دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرے۔

پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ حسن رضا پاشا نے کہا کہ نواز شریف کے لیے انتخابی سیاست کے دروازے ابھی مکمل بند نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ کیس میں ہونے والی سزا کی اپیل ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور اگر نواز شریف اس اپیل کی سماعت مکمل ہونے پر کیس سے بری ہو جاتے ہیں تو پھر انتخابی سیاست میں حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس وقت پارلیمنٹ میں یہ قانون تیار کیا جا رہا تھا اس وقت بھی پیپلز پارٹی نے اعتراض کیا تھا کہ ماضی میں کیے گئے جن فیصلوں سے متعلق شک ہو ان کو اس قانون میں شامل نہ کیا جائے، بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ اس شق کو شامل کرنے کا مقصد سابق وزیراعظم نواز شریف کی تاحیات نا اہلی کو ختم کرنا ہے۔انصار عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 184/3 کے تحت جو فیصلے ماضی میں ہو چکے ان پر نئے قانون کا اطلاق نہیں ہو گا، تاہم اب جو بھی سو موٹو کیسز ہوں گے اس پر اپیل کا حق ہو گا۔سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان آ رہے تھے اور اپیل کے ذریعے ان کی نااہلی ختم ہو رہی تھی تاہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے سے نواز شریف کو اور مسلم لیگ ن کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اب سیاست میں حصہ تو لے سکتے ہیں لیکن ان کا انتخابی سیاست میں حصہ لینا مشکل نظر آ رہا ہے۔سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے اس کے علاوہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی ہے کہ جس سے نااہلی کی مدت کو 5 سال تک کے لیے قرار دیا تھا، نواز شریف کی نااہلی کو 5 سال ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اور بعض قانون ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو 5 سال ہو چکے اس لیے نواز شریف کو اب اپیل کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں نااہلی کی حد مقرر کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ ن سپریم کورٹ کا دروازہ ایک مرتبہ پھر کھٹکھٹائے گی اور درخواست کرے گی کہ نواز شریف کو الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے‘۔

تاہم سابق اٹارنی جنرل و معروف قانونی ماہر عرفان قادر کے مطابق نواز کی تاحیات نااہلی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کہ نواز شریف کی تاحیات نااہلی ختم کر کہ نااہلی کی حد 5 سال کر دی تھی، نواز شریف اب الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ نے وضاحت کر دی ہے کہ نااہلی 5 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی تو یہ معاملہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔نواز شریف اور جہانگیر ترین سپریم کورٹ میں نئی بنیادوں پر نیا کیس دائر کر سکتے ہیں اور یہ پٹیشن تین سینیئر ججوں کے سامنے جائے گی جس میں پاناما کیس کو دوبارہ سے سننے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھی شروعات ہے لیکن زیادہ خوشی ہوتی اگر اس کا اطلاق ماضی کے فیصلوں پر بھی ہوتا۔ اس سے شاید سپریم کورٹ ماضی کی غلطیاں بھی سدھار سکتی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے ماضی کے فیصلوں پر اپیل کا حق نہ دے کر عدالتی گند صاف کرنے کا بہت بڑا موقع ہاتھ سے گنوا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب نواز شریف کی وطن واپسی کی خبریں چل رہی ہیں اور دوسری جانب ایسا فیصلہ آنا جس کے تحت ماضی کے ازخود نوٹسز فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق نہیں دیا گیا تو یہ متضاد صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ تاہم الیکشن ایکٹ میں

واپڈا افسران کو مفت بجلی کی جگہ کتنی رقم ملے گی؟

ترمیم ہو چکی ہے کہ کوئی بھی نااہلی 5 سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی، نواز شریف کے لیے اب یہ ترمیم استعمال کی جائے گ

Back to top button