نواز شریف 4 سال بعد سیدھے لاہور آئینگے یا اسلام آباد؟

قائد مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف 4 سال بعد امید پاکستان نامی خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے 21اکتوبر کو دن 12بجے دبئی سے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کریں گے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف نے دبئی سے پاکستان پہنچنے کے لئے عام کمرشل پرواز کی بجائے چارٹرڈ طیارہ کیوں بک کرایا؟ چارٹرڈ طیارے میں نواز شریف کے ساتھ کون کون سوار ہو گا؟ کیا چارٹرڈ طیارہ سیدھا لاہور آئے گا یا پہلے اسلام آباد لینڈ کرے گا؟
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور نوازلیگ کے سربراہ نوازشریف 21اکتوبر کو اپنی وطن واپسی کے دوران لاہور آتے ہوئےاسلام آباد میں ایک ’ٹیکنیکل لینڈنگ‘ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وطن واپسی سے دو دن قبل متحدہ عرب امارات آنے اور 21 اکتوبر کو علامہ اقبال ائیر پورٹ پر اترنے کا پروگرام طے ہے۔ ’’21 اکتوبر کو ہی ایک اور چھوٹی سے پرواز کا پیوند بھی لگ سکتا ہے لیکن یہ تجسس برقرار رہنا چاہیے‘‘۔
تاہم مبصرین کے مطابق نوازشریف کے لئے بک کروائے گئے چارٹرڈ جہاز کو دبئی سے آتے ہوئے ایندھن کے لیے اسلام آباد میں رکنے کی ضروررت نہیں ہے تاہم وہ چند ’ قانونی امور‘ نمٹانے کےلیے اسلام آباد میں لینڈنگ کریں گے اور بالفرض اگر انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قبل ازحراست حفاظتی ضمانت مل گئی ہوتی تو شاید انہیں اسلام آباد رکنے کی حاجت پیش نہ آتی۔ اس معاملے کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ایک اہم میٹنگ کے لیے رک رہے ہیں۔
دوسری جانب لیگی ذرائع کے مطابق لیگی قیادت کی جانب سے دوران سفر کسی بدمزگی سے بچنے کیلئے چارٹرڈ طیارہ بک کرایا گیا ہے تاکہ جہاں نواز شریف کو دوران سفر سہولت رہے وہیں اپنے مطلوبہ وقت پر نواز شریف پاکستان پہنچ سکیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق دو ہزار سات میں مشرف دور میں جب جلا وطنی ختم کر کے نوازشریف دبئی سے لاہور پہنچے تھے تو اس کے لئے انہوں نے چارٹرڈ طیارے کے بجائے اتحاد ایئر لائن کی پرواز کا انتخاب کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں لا ہور ایئر پورٹ سے بزور طاقت واپس بھیج دیا گیا تھا۔ بعد ازاں دو ہزار اٹھارہ میں نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ بھی ایک نجی فضائی کمپنی کے طیارے میں لاہور پہنچے تھے۔ جہاں دونوں باپ بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ سابق وزیر اعظم نے پاکستان پہنچنے کے لئے چارٹرڈ طیارہ بک کرایا ہے۔ اس بارے میں لاہور میں موجود نون لیگی ذرائع کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سفر آسان بنانے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ساتھ ہی سیکورٹی کا معاملہ بھی ہے۔ اس سلسلے میں جب سول ایوی ایشن سے جڑے ایک ذریعے سے دریافت کیا گیا کہ نجی فضائی کمپنی کے مقابلے میں چارٹرڈ طیارے میں سفر کرنے میں کیا آسانیاں ہوتی ہیں اور اس معاملے کوسیکورٹی سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟ ذریعے کا کہنا تھا ” آسانی تو ہوتی ہے۔اسی وجہ سے عام پرواز کے مقابلے میں کوئی مہنگی ترین چارٹرڈ فلائٹ بک کراتا ہے۔ چارٹرڈ طیارے کے مسافروں کو امیگریشن کے حوالے سے آسانیاں ہو جاتی ہیں۔ الگ کاؤنٹر کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ ایڈوانس میں پاسپورٹ اور انٹری وغیرہ کا معاملہ حل ہو جاتا ہے اور پھر پروٹو کول بھی ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ طیارے میں کوئی غیر متعلقہ مسافر سوار نہیں ہوتا۔ ذریعے کے مطابق ماضی میں نواز شریف جب بھی بیرون ملک طویل وقت گزار کر پاکستان پہنچے تو تب عمران خان اور ان کے پیروکاروں کا فیکٹر موجود نہیں تھا۔ اس بار یہ عنصر بہت زیادہ غالب ہے۔ لندن میں نواز شریف کے چار سالہ قیام کے دوران تحریک انصاف یا عمران خان کے پیروکاروں نے سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے کی ایون فیلڈ رہائش گاہ، جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے اور لندن میں ان کے عارضی سیاسی ہیڈ کوارٹر پر مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران بدمزگی کے واقعات بھی ہوتے رہے۔ اگر نواز شریف کسی نجی فضائی کمپنی کے طیارے میں پاکستان آتے تو ظاہر ہے کہ مذکورہ ایئر لائن انہیں یہ ڈیٹا تو فراہم نہیں کرتی کہ ان کے ساتھ کتنے اور کون سے مسافر سوار ہوں گے۔ اگر ان مسافروں میں عمران کے ہیں تیس پیروکار بھی بیٹھ جاتے تو دوران سفر بدمزگی کا قوی امکان ہوتا۔ جبکہ اس وقت پاکستان میں جس نوعیت کی سیاسی پولرائزیشن ہے۔ ایسے میں کسی پیروکار کی جانب سے جسمانی حملہ بھی خارج از امکان نہیں تھا۔ چنانچہ یقینا ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر چارٹرڈ طیارہ بک کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہوگا۔
نون لیگی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ نواز شریف کو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اس کے لئے سابق وزیر اعظم کی را بداری یا حفاظتی ضمانت کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔ ایک نون لیگی عہدیدار کے بقول طے شدہ پلان کے تحت نواز شریف پہلے مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کریں گے اور پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کریں گے۔ اب یہ ہائیکورٹ پر منحصر ہے کہ وہ مستقل ضمانت دیتا ہے یا نہیں۔ نون لیگی قیادت کو زیادہ امید یہی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی نواز شریف کو ضمانت دیدے گی۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق نواز شریف دینی میں بھی دو تین روز قیام کریں گے۔ بعد ازاں اکیس اکتوبر کونواز شریف دبئی
غیرقانونی مقیم افراد کی پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن میں 17دن باقی
سے پہلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ جہاں تقریباً نصف گھنٹے بعد ان کا طیارہ لاہور کے لئے پرواز کر جائے گا۔
