نوازالدین صدیقی، اہلیہ میں بچوں کی حوالگی کی قانونی جنگ جاری

بھارتی اداکار نوازالدین صدیقی اور ان کی اہلیہ عالیہ صدیقی کے درمیان بچوں کی حوالگی کی قانونی جنگ ختم نہیں ہو سکی ہے، نواز الدین صدیقی نے اہلیہ کو ایک راضی نامہ بھجوایا ہے جس میں انھوں نے بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار کیا ہے لیکن عالیہ صدیقی نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ نوازالدین نے پوری زندگی باپ ہونے کا فرض نہیں نبھایا، نوازالدین صدیقی اور ان کی اہلیہ کی نجی زندگی گزشتہ ایک عرصہ سے تنازعات کا شکار ہے، بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی،ان کی والدہ، اہلیہ عالیہ اوران کے دونوں بچے گزشتہ ایک عرصہ سے والدین کے مابین تنازعہ حل کرنے ممبئی ہائیکورٹ پہنچ گئے۔

عالیہ صدیقی نے حال ہی میں کہا تھا کہ نوازالدین نے پوری زندگی باپ ہونے کا فرض نہیں نبھایا، اس نے بچوں کی پرورش نہیں کی اور وہ اُس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، دوسری جانب نوازالدین صدیقی نے دونوں بچوں کو اپنی سرپرستی میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ نوازالدین کے وکلا نے راضی نامہ کے کاغذات بھیجے ہیں اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ اس نے بچوں کو اپنے ساتھ رہنے کے لیے کہا ہے جو کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔ بچے پیدائش ہی سے میرے ساتھ ہیں اور وہ والد کے پاس جانا بھی نہیں چاہتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نوازالدین صدیقی ان کی والدہ، اہلیہ اور ان کے بچے خاندانی تنازعہ حل کرنے کے لیے ممبئی ہائیکورٹ پہنچے، بالی ووڈ اداکار نے حال ہی میں جسٹس ریوتی، موہت دیرے، شرمیلا دیش مکھ پر مشتمل ڈویژن بینچ سے کہا کہ وہ ان کے بچوں کو تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں جو ان کے علم کے بغیر اپنی والدہ عالیہ کے ساتھ دبئی سے انڈیا واپس آئے تھے۔ اس کے بعد عدالت نے سب کو طلب کیا  تھا، نوازالدین صدیقی اور ان کی اہلیہ بچوں کی سرپرستی کی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ  طلاق کے بھی خواہاں ہیں۔

واضح رہے کہ نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے شوپر پر نہ صرف گھریلو تشدد بلکہ ریپ کے بھی الزامات لگائے ہیں اور ان کو لاپرواہ والد قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ نوازالدین صدیقی نے اپنی بیٹی کا گھر میں داخلہ بند کر دیا ہے، بچوں کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

اداکارہ ایمن کی شوبز سے کنارہ کشی کی وجہ سامنے آ گئی؟

Back to top button