مذاکرات اچھی بات لیکن عمران خان کی گارنٹی کون دے گا؟ خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ مذاکرات اچھی بات لیکن عمران خان کی گارنٹی کون دے گا؟ وہ تو دن میں کئی رنگ بدلتے ہیں۔
سینئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے کہاکہ مذاکرات چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ تک حلال اور حکومت سے حرام تھے۔یہ دوغلا پن اور دہرا معیار پی ٹی آئی کی شناخت اور کلچرہے۔
خواجہ آصف نےکہا کہ ایک زمانہ تھا جنرل باجوہ اور فیض ضامن ہوتےتھے۔یہ تب کی بات ہے جب محبت جوان تھی۔انہوں نےکہا کہ پی ٹی آئی لیڈر اموات کی تعداد بتاتے ہیں لیکن ثبوت فراہم نہیں کرتے۔رینجرز اور پولیس کی شہادتوں کا اعتراف تو دور ذکر تک نہیں کرتے۔
پروپیگنڈا کرنے والے 2018 کی بات کیوں نہیں کرتے؟اسحٰق ڈار
خیال رہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کےلیے برف پگھلنے لگی ہے اور دونوں کے درمیان ملاقاتوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے رابطےشروع کردیئے ہیں اور اس ضمن میں بیرسٹر گوہر،عمر ایوب اور عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی،مذاکرات کےلیے عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی ٹیم کو مکمل اختیار دےرکھا ہے۔
