مذاکرات : پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کردیے

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی کمیٹی کےسامنے پیش کردیے ہیں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کا تیسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے۔
مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی کمیٹی کےسامنے پیش کیے، تحریری مطالبات 3 صفحات پر مشتمل اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر ہیڈ پر درج کیےگئے ہیں۔ جن میں کہاگیا ہےکہ پی ٹی آئی وفاقی حکومت سے 2 کمیشن آف انکوائریز تشکیل دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پہلا کمیشن 9 مئی واقعات اور عمران خان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کرے،دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر تک کےواقعات کی تحقیقات کرے۔
اسلام آباد میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے، 24 سے 27 نومبر تک زخمی و جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد بھی بتائی جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 9 مئی اور نومبر 2024 کے سیاسی قیدیوں کےقانونی عمل میں شفاف معاونت کرے۔
تحریری مطالبات میں تنبیہ کی گئی ہےکہ جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دیے گئے تو مذاکرات جاری نہیں رہیں گے۔مطالبات پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، علامہ ناصر عباس،اسد قیصر،سلمان اکرم اور حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں مذاکرات کے تیسرے دور کا ان کیمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے 10 رکنی جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا 6 رکنی وفد بھی شریک ہے۔
حکومتی ارکان میں سینیٹر عرفان صدیقی،اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان، خالد حسین مگسی، محمد اعجاز الحق ، فاروق ستار، عبدالعلیم خان ، چوہدری سالک حسین، سید نوید قمر، اور راجا پرویز اشرف شامل ہیں۔
گنڈاپور کی بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کی تصدیق
اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، صاحب زادہ محمد حامد خان، سینیٹر ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا شامل ہیں۔
