نہ تو کوئی ونڈر بوائے آ رہا ہے اور نہ یہ نظام کہیں جا رہا ہے؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ یہ بات اب سب پر واضح ہو چکی ہے کہ ونڈر بوائے کوئی نہیں، حتیٰ کہ محسن نقوی بھی نہیں۔ سسٹم یہی چلے گا، سونا یہی بکے گا، ہیرا یہی بنے گا، کابینہ یہی رہے گی، سب اسی تنخواہ پر کام کریں گے، نہ کوئی انقلاب آئے گا، نہ کوئی ان ہاؤس تبدیلی ہو گی، نہ نظام ہلایا جائے گا اور نہ تخت گرایا جائے گا۔

 

عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ کے ونڈر بوائے والے تجزیے نے خاصا ارتعاش پیدا کیا۔ ٹیکنو کریٹ والے جملے نے بہت سے سیاست دانوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا۔ بہت سے ٹیکنو کریٹس اپنے سی وی پر ’ٹاکی پوچا‘ مارنے لگے۔ بہت سے اپنی بیرون ملک یونیورسٹیوں میں تعلیم کے قصے سنانے لگے۔ بہت سوں نے نئے سوٹ کا آرڈر دے دیا، کچھ شیروانیاں امیدوں کی کھونٹیوں پر لہرانے لگیں۔ شُدھ انگریزی بولنے والے اردو حلف نامے کے ہجے کرنے لگے۔ لیکن ہھر اچانک خبر یہ آئی کہ یہی نظام چلے گا اور کوئی ونڈر بوائے نہیں آ رہا۔ یوں وزارتوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی اور لہراتی شیروانیوں کو آگ لگ گئی۔

 

عمار مسعود کے مطابق انصار عباسی سے لاکھ اختلاف سہی مگر ان کی خبر غلط نہیں ہوتی۔ وہ تمثیل، علامت یا فسانے میں بات نہیں کرتے۔ ان سے زیادہ مستند ذرائع کسی اور صحافی کے ہیں ہی نہیں۔ وہ جب کہہ رہے ہیں کہ نظام یہی چلے گا تو یہ بات مصدقہ ہے کہ  طاقت کے ایوانوں میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔  انصار عباسی مصر ہیں کہ ونڈر بوائے کسی کی فرمائش پر تخلیق نہیں ہو سکتا، کسی کالم نگار کی فرمائش پر نظام نہیں الٹا جا سکتا۔ دوسری جانب طلعت حسین بھی ایک معروف صحافی ہیں۔ انہوں نے بھی  اپنے ایک وی لاگ میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت والے اندیشے کو سرے سے رد کر دیا ہے۔ ان کی اس اندیشے سے اختلاف کی توجیہ بہت کمال کی تھی۔ طلعت حسین نے یہ نہیں کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت نہیں آئے گی بلکہ کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ چکی ہے۔ اس بات کو انہوں نے مزید دلائل سے ثابت کیا۔ جیسے کپتان ڈنکے کی چوٹ پر، ڈھول کی تھاپ پر کہتا تھا کہ تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آ چکی ہے، اسی طرح معروف صحافی نے ایک ایک وزارت کی چھان پھٹک کے بعد کہا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت آ چکی ہے۔

 

عمار مسعود کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب لائق بھی ہیں، فائق بھی۔ آئی ایم ایف سے پنجے لڑانا ان کو خوب آتا ہے۔ بہت سے بین الاقوامی اداروں کا تجربہ رکھتے ہیں لیکن عوام اور ان کے ووٹوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ ایک باقاعدہ ٹیکنو کریٹ ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی ایک لاجواب شخصیت کے حامل ہیں۔ انتھک محنت کے عادی ہیں۔ چومکھی لڑائی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ابھی داخلہ کے امور پر بات کر رہے ہوں گے، کچھ ہی دیر میں کرکٹ کے معاملات سلجھا رہے ہوں گے۔ وہاں سے فارغ ہوں گے تو علما کے وفد کے ساتھ بیٹھ جائیں گے، وہاں سے فرصت پائیں گے تو شہداء کے جنازے کو کندھا دینے روانہ ہو جائیں گے۔ محسن نقوی مقبول بھی ہیں اور معروف بھی مگر ہیں وہ ٹیکنو کریٹ ہی۔ ایک اچھے ٹیکنو کریٹ۔

 

عمار مسعود کہتے ییں کہ وزارت خارجہ اسحاق ڈار نے سنبھال رکھی ہے اور اچھا کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے ممالک میں بہت عزت ہے ان کی۔ نواز شریف کے دستِ راست وہی ہوا کرتے تھے۔ خارجہ کے محاذ پر ان کا کام لاجواب ہے لیکن وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے۔ وہ ہیں ایک اعلیٰ ٹیکنو کریٹ، ایک بہت قابل ٹیکنو کریٹ۔ادی طرح وزارتِ دفاع خواجہ آصف کے پاس ہے جو پکے عوامی نمائندے ہیں اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ لیکن وزارتِ دفاع کی ریت ہے کہ اسے چلاتے سیکرٹری دفاع ہی ہیں۔ وزیرِ دفاع صرف بیان دینے کے لیے ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے چار اہم وزارتوں یعنی داخلہ، خارجہ، خزانہ اور دفاع  پر ٹیکنو کریٹس موجود ہیں۔ لہٰذا باقی غیر اہم وزارتوں سے کوئی اتنا فرق نہیں پڑتا۔ وہاں سیاست دان بھی چل سکتے ہیں اس لیے چند وزارتوں کے لیے اچھے بھلے چلتے نظام کو لپیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ سہیل وڑائچ کی تھیوری اس حوالے سے بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ٹیکنو کریٹس کا نظام لانے کے لیے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر نظام نہیں چلتا۔ موجودہ نظام میں تحریک انصاف کی پوزیشن سے سب ہی واقف ہیں۔ ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر تحریک انصاف کی جانب سے حملوں کا بیانیہ اس شدت سے بنایا گیا کہ اگر کوئی چاہے بھی تو جس طرح کی ذہن سازی ہو چکی ہے اس کے بعد 9 مئی کے سانحے سے یو ٹرن کی ا ممکن نہیں۔

 

عمار مسعود کے مطابق پیپلز پارٹی کی آئین پسندی کے سب ہی معترف ہیں مگر ان کی گورننس سے عوام مایوس ہیں۔ ایسے میں اگر پی پی پی کی ٹوکری میں سارے انڈے ڈالیں جائیں گے، یعنی صدارت کے بعد اگر وزارت عظمی بھی اسے دی جائے گی تو ٹوکری بھی نہیں رہے گی۔ ویسے بھی اس وقت نون لیگ جس شدت سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی تابع داری پر آمادہ ہے، وہ نظام کی تبدیلی کی صورت میں اتنی فرمانبردار نہیں رہے گی اور فیصلہ سازوں کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ لہٰذا اتنے دشمنوں کے درمیان ٹیکنو کریٹس کی حکومت  پنپ نہیں سکتی۔

 

شہباز شریف کا طرزِ سیاست ایسا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے زبان پر شکایت نہیں لاتے۔ بڑے بڑے زخم سینے پر کھا کر بھی مسکراتے رہتے ہیں۔ ان سے بہتر چوائس موجودہ سسٹم میں نظر نہیں آتی کیونکہ اگر شہباز شریف اپنی مدت پوری نہیں کر سکے تو وزیرِ اعظم کی مدت والا صفحہ آئین کی کتاب سے پھاڑ دینا چاہیے۔ عمار مسعود کا کہنا ہے کہ سہیل وڑائچ کے ونڈر بوائے والے تجزیے کے بعد ان کا بلی چوہے کے کھیل والا تجزیہ بھی آ چکا ہے جس کا لبِ لباب یہ کہ بلی چوہے کے شکار میں بے قصور ہے کیونکہ یہ اس کی سرشت میں ہے۔ وہ بیچاری مجبوری میں ایسا کر رہی ہے۔

لیکن موجودہ نظام ایسی بے سروپا باتوں سے بالاتر ہے۔ یہ نظام پوری ثابت قدمی سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور اس کے ڈھے جانے کا قطعی کوئی خطرہ نہیں۔ ہاں البتہ یہ درست ہے کہ جوہری ہر وقت گوہرِ نایاب کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا اس کی نظر میں ہوتا ہے۔ وہ ان کی پرکھ بھی کرتا رہتا ہے لیکن قوموں کے خزانوں میں ہیرا شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔

 

عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ابھی تو پاکستان کے معاملات بہترین چل رہے ہیں۔ خارجہ کے محاذ پر کامرانیاں ہمارے قدم چوم رہی ہیں، عسکری محاذ پر دنیا میں ہمارا  ڈنکا بج رہا ہے، معاشی میدان میں پوری دنیا ہمارے ہاں سرمایہ کاری کرنے پر تلی ہوئی ہے اس لیے سب کچھ ایسے ہی چلے گا۔ ہاں البتہ اگر کبھی حالات خراب ہوں، بین الاقوامی تعلقات درست نہ ہو رہے ہوں، معیشت گھاٹے میں جا رہی ہو، سیاست سنبھل نہ رہی ہو تو ایسے شخص کی طرف نظر کرنے کی  ضرورت ہے جو لاہور میں انتخابات کے بعد سے اپنی انا سنبھالے ناراض بیٹھا ہے۔ نشانی اس  شخص کی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ پر کبوتر اور سر پر ہما بیٹھتا ہے۔ جوہری اگر جوہر شناس ہے تو اس کو پتہ ہو گا اس ملک کے خزانے میں ہیرا ایک ہی ہے جو جاتی امراء کا رہائشی ہے۔

Back to top button