نہ پاکستانی شناخت نہ پاسپورٹ ،عمران کے بچے برطانوی شہری نکلے

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کی پاکستانی شہریت بارے علیمہ خان کا دعویٰ جھوٹا نکلا۔ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی قیادت کے لئے عمران خان کے جن بیٹوں نے پاکستان پہنچ کر احتجاج کی قیادت کرنی تھی علیمہ خان کے دعوؤں کے برعکس وہ پاکستان کی بجائے لندن کے شہری نکلے۔ اس حقیقت کا انکشاف تب ہوا جب انھوں نے لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزوں کیلئے درخواستیں جمع کروائیں کیونکہ جن کے پاس پاکستانی شہریت نہیں ہوتی انھیں ہی پاکستان آنے کیلئے ویزا لینا پڑتا ہے۔ عمران خان کے بیٹوں کے پاس پاکستانی شہریت نہ ہونے کے انکشاف کے بعد قاسم اور سلیمان کی پی ٹی آئی کے 5 اگست کے احتجاج کی قیادت تو کجا احتجاج میں شرکت بھی ناممکن ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر ان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان کی جانب سے ملک میں آ کر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کی خبروں نے سیاسی فضا کو ایک بار پھر گرما دیا۔ تاہم جب عملی صورتحال سامنے آئی تو سارا بیانیہ ایک تضاد اور جھوٹ کا مجموعہ نکلا۔ اس حوالے سے  عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا گیا کہ عمران کے بیٹے نائیکوپ یعنی اوورسیز پاکستانیوں کیلئے مخصوص قومی شناختی کارڈ  کے حامل ہیں اور وہ پاکستانی شہری کی حیثیت سے کسی بھی وقت وطن واپس آ سکتے ہیں۔ لیکن اصل حقیقت اس وقت بےنقاب ہوئی جب سلیمان اور قاسم نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا درخواستیں جمع کروائیں۔ جو صرف غیر پاکستانی شہریوں کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق قاسم اور سلیمان کی جانب سے ویزا درخواستیں جمع کروانا ایک سنگین تضاد کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ اگر ان کے پاس نائیکوپ ہوتا، تو انہیں ویزے کی ضرورت نہ پڑتی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسی نکتے پر سوال اٹھاتے ہوئے علیمہ خان کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے واقعی پاکستانی شہری ہیں، تو ویزا کیوں؟ اگر انھیں پاکستان آمد کیلئے ویزے کی ضرورت ہے، تو اس سے لگتا ہے کہ وہ پاکستانی شہری نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ  اگر قاسم اور سلیمان پاکستانی شہری نہیں، تو وہ پاکستان میں احتجاج یا کسی سیاسی سرگرمی کی قیادت کیسے کر سکتے ہیں؟ طلال چودھری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے اگرصرف والد سے ملنےآنا چاہیں تو دونوں بھائیوں کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہا جائے گا، ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔اگر وہ قانون کے دائرے میں رہنے کا وعدہ کریں گے تو انہیںویزا جاری کر دیا جائے گا۔ تاہم اگر انھوں نے یہاں آ کر غل غپاڑے میں شرکت کا فیصلہ کیا تو قانون ضرور حرکت میں آئے گا۔

اس حوالے سے قانونی ماہرین کا بھی ماننا ہے کسی دوسرے ملک کی شہریت کے حامل افراد کی پاکستان آکر احتجاج میں شرکت نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ ایسے افراد کا نہ صرف ویزا منسوخ کیا جا سکتا ہے بلکہ انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے بقول پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 16، جو اجتماع کے حق سے متعلق ہے، صرف پاکستانی شہریوں پر لاگو ہوتا ہے۔ غیر ملکی شہری اس حق کے حامل نہیں، اور اگر وہ ویزا لے کر پاکستان آئیں، تو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں شملویت ان کے ویزا کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کے ویزا کی منسوخی عمل میں آ سکتی ہے بلکہ قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمران خان کے دونوں بیٹے نہ صرف برطانوی شہری ہیں، بلکہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ ان کی اچانک سرگرمی اور جذباتی مداخلت صرف والد کی گرفتاری کے بعد سامنے آئی، تاہم ان کا احتجاج صرف امریکی قانون سازوں سے ملاقات تک محدود رہا انھوں نے احتجاج بارے پاکستان میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

5  اگست سر پر آن پہنچی لیکن احتجاجی تحریک کا ٹیمپو نہ بن پایا

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں نے پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دے دی ہے اور وہ ملک آمد سے قبل وزارت داخلہ سے منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔علیمہ خان کے مطابق چند روز قبل سلیمان اور قاسم نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویزا کے لیے درخواست دی، سفیر نے بتایا ہے کہ وہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔’ تاہم اس حوالے سے وزارت داخلہ نے بھی علیمہ خان کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ حکام کا کہنا ہے کہ  بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی کوئی ویزا درخواست وزارت داخلہ میں زیر غور نہیں ہے۔فیملی ویزا یا کسی بھی قسم کا ویزا وزارت داخلہ جاری نہیں کرتی اس لئے اس حوالے سے علیمہ خان کا وزارت داخلہ بارے دعویٰ خلاف حقیقت ہے۔اس نوعیت کا ویزا صرف ہائی کمیشن اور وزارت خارجہ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ اس لئے علیمہ خان کو وزارت داخلہ بارے ایسے بے بنیاد بیانات سے باز رہنا چاہیے۔

Back to top button