نیتن یاہو نے ٹرمپ سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کردی

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

اس بیان کو اس بات کا اشارہ سمجھا گیا کہ صدر ٹرمپ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی صدر ٹرمپ نے اسی نوعیت کا مبہم اشارہ دیا تھا حالانکہ اس وقت وہ ایران پر حملے کا فیصلہ تقریباً کر چکے تھے۔

سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فوجی کمانڈرز کی جانب سے پیش کردہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا ہے اور حملے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایرانی سکیورٹی ادارے ملک گیر احتجاج کے معاملے پر آگے کیا اقدام کرتے ہیں۔

اس معاملے پر وائٹ ہاؤس نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔

Back to top button