ایرانی حملوں کے بعد نیتن یاہو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے؟

 

 

 

ایران کے جوابی حملوں کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پراسرار گمشدگی نے سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کا ایک طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں میں زخمی ہو گئے ہیں، کہیں یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنی جان بچانے کے لیے زمین کی بجائے فضا میں موجود ہیں اور سکیورٹی آلات سے لیس اپنے خصوصی سرکاری طیارے وِنگز آف صیہون میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

 

تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار شکیل انجم کے مطابق تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اپنے ملکوں کو جنگوں کی آگ میں جھونکنے والے حکمرانوں کوہمیشہ اپنے کئے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تمام تر حفاظتی انتظامات اور سکیورٹی حصار کے باوجود نیتن یاہو کا انجام بھی کسی نہ کسی صورت جرمنی کے آمر ہٹلر سے مختلف نہیں ہو گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں شکیل انجم کا کہنا ہے کہ دفاعی تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد سے اسرائیلی قیادت کی سرگرمیوں میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر  ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے بعد سے نیتن یاہو منظرِ عام سے غائب ہیں۔اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس غیر موجودگی کے بارے میں کوئی واضح اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آئی۔ نتیجتاً عالمی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ طرز عمل خوف کی علامت ہے یا ایک معمول کی عسکری حکمت عملی، اس حوالے سے شکیل انجم کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں ریاستی سربراہوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔لیکن ان کے بقول مسئلہ صرف سکیورٹی انتظامات کا نہیں بلکہ سیاسی اور نفسیاتی تاثر کا بھی ہے۔ اگر کسی ملک کا وزیرِ اعظم بار بار اجلاس منسوخ کرے، خطرے کے وقت فوری طور پر غائب ہو جائے اور عوام کے سامنے نظر نہ آئے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قیادت خود غیر یقینی کا شکار ہے۔

 

شکیل انجم کے مطابق ایران سے جنگ کے ابتدائی دنوں میں نیتن یاہو نے زیرِ زمین بنکروں میں پناہ لی۔ تاہم جب ایران نے کئی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسرائیلی قیادت جان گئی کہ اب زیر زمین پناہ گاہیں بھی ایرانی حملوں میں محفوظ نہیں رہیں جس کے بعد انھوں نے فضا میں پناہ لینے کو ترجیح دینا شروع کر دی۔ تاہم اس پر تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ اگر اسرائیل کیلئے زیرِ زمین پناہ گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں تو کیا فضا میں موجود رہنا واقعی کسی رہنما کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے؟ شکیل انجم کے بقول ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے میزائل پروگرام کو بہت مضبوط بنایا ہے۔ اس لئے اگر ایرانی میزائل زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو کیا وہ کسی طیارے کو ہدف نہیں بنا سکتے؟ شکیل انجم کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کی مسلسل غیر موجودگی دراصل اسرائیلی قیادت کی اس نفسیاتی کیفیت کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

ایرانی مزاحمت نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ذہنی مریض بنا دیا؟

دوسری طرف اسرائیلی ذرائع ابلاغ ان تمام دعوؤں کو جنگی افواہیں قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اور اس کے حامی میڈیا ادارے نفسیاتی جنگ کے تحت ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی عوام کے حوصلے کمزور کیے جا سکیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ کے دوران سربراہانِ حکومت کو اکثر خفیہ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے تاکہ دشمن کے ہدفی حملوں سے بچا جا سکے۔ اسی لیے نیتن یاہو کی غیر موجودگی کو غیر معمولی واقعہ قرار دینا درست نہیں۔ تاہم شکیل انجم کے مطابق تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی حکمران اپنی پالیسیوں کے نتیجے میں اپنے ہی ملک کو ایک تباہ کن جنگ میں دھکیل دیتا ہے تو اس کا انجام اکثر عبرتناک ہوتا ہے۔ شکیل انجم کے بقول دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایڈولف ہٹلر بھی ابتدا میں طاقت اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن جب جرمنی کو شکست کا سامنا ہوا تو وہ زیرِ زمین بنکر میں محصور ہو کر رہ گیا۔ آخرکار اس نے وہ راستہ اختیار کیا جسے تاریخ ایک المناک انجام کے طور پر یاد کرتی ہے۔اسی تاریخی مثال کی وجہ سے آج کچھ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایران اسرائیل جنگ طویل ہو گئی اور اسرائیل کو شدید نقصان اٹھانا پڑا توخود کو ہٹلر کی طرح طاقتور سمجھنے والے نیتن یاہو کو بھی اسی قسم کے سیاسی یا تاریخی انجام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور نیتن یاہو کا انجام بھی کسی دن ہٹلر کی طرح ایک عبرتناک مثال بن سکتا ہے۔

 

Back to top button