نیتن یاہو نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کیلئے نامزد کر دیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ "صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی مواقع پیدا کیے۔
یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔
نیتن یاہو نے نوبیل انعام کی نامزدگی کا خط بطور تحفہ صدر ٹرمپ کو پیش کیا اور بتایا کہ یہ خط ناروے کی نوبیل کمیٹی کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نہ صرف اسرائیل بلکہ تمام یہودیوں کے لیے قابلِ قدر ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس اقدام پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے علم نہیں تھا کہ نامزدگی ہوچکی ہے، لیکن یہ بہت معنی خیز ہے۔”
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کی تین نیوکلیئر تنصیبات کو تباہ کیا اور اب امید ہے کہ مزید حملوں کی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ امن کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے ایران کو "عظیم لوگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم ان کو موقع دینا چاہتے ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے بھارت و پاکستان، سربیا و کوسوو، اور افریقی ممالک روانڈا و کانگو کے مابین کشیدگی کم کرنے میں سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کو تجارتی دباؤ کے ذریعے ٹالا گیا۔
مشرق وسطیٰ کے مندوب اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات اگلے ہفتے متوقع ہیں۔
ایران پر پابندیاں درست وقت پر ہٹائیں گے، اسرائیل سے جنگ ختم ہو چکی: ٹرمپ
اس موقع پر نیتن یاہو نے فلسطینی مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی حکمرانی کا حق ضرور ہونا چاہیے، لیکن وہ اسرائیل کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ انہوں نے پہلی بار کہا کہ "جو فلسطینی غزہ میں رہنا چاہتے ہیں، رہ سکتے ہیں”، تاہم سکیورٹی مکمل طور پر اسرائیل کے پاس رہے گی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد یہ ان کی نیتن یاہو سے تیسری ملاقات تھی۔
ادھر، فلسطین نواز مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا، جبکہ صدر ٹرمپ کی نوبیل انعام نامزدگی کے حوالے سے حکومتِ پاکستان نے بھی حالیہ دنوں ایک سفارشی خط نوبیل کمیٹی کو بھیجا ہے، جس میں ان کے پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے میں کردار کو سراہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ریپبلکن کانگریس رکن نے بھی اسرائیل-ایران کشیدگی میں ان کے کردار پر انہیں نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔
