نئے انسداد دہشت گردی ایکٹ سے جبری گمشدگیاں بڑھنے کا خدشہ

بلوچستان حکومت کی جانب سے انسداد دہشتگردی ترمیمی ایکٹ 2025 کا نفاذ شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ حکومت ترمیمی قانون کو لاپتہ افراد کے مسئلے کا مستقل اور قانونی حل قرار دے رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں، آئینی ماہرین اور لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ آئین کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے جس کے نتیجے میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ختم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو جائے گا۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی کابینہ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ’یکم فروری کے بعد بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت صوبے میں ایسے خصوصی حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے جہاں ان افراد کو رکھا جائے گا جن پر دہشت گردی، کالعدم تنظیموں سے روابط، سکیورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو گا۔
اس قانون کے تحت مجاز حکام کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 دن تک پروینٹیو ڈیٹینشن میں رکھ سکیں، چاہے اس کے خلاف براہ راست شواہد موجود ہوں یا صرف مصدقہ اطلاعات یا شکایات موصول ہوئی ہوں۔ وزیر اعلی کے مطابق ان افراد سے تفتیش پولیس کے ایس پی رینک کے افسر یا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کرے گی اور اگر وہ کسی شیڈولڈ جرم میں ملوث پائے گئے تو انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تحقیقاتی اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات کے مطابق ابتدائی طور پر کوئٹہ اور تربت میں دو حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ قانون جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں سکیورٹی فورسز کو گرے زونز میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مشتبہ افراد کو حراست میں لینا پڑتا تھا، جس کے باعث مسنگ پرسنز کا تاثر پیدا ہوتا تھا۔ میر سرفراز بگٹی کا دعویٰ ہے کہ نئے قانون کے بعد ہر زیرِ حراست فرد کا ریکارڈ موجود ہو گا، اہل خانہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اطلاع دی جائے گی اور ملاقات کی اجازت بھی دی جائے گی، یوں یکم فروری کے بعد لاپتہ افراد کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے معاملے کو طویل عرصے سے ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ دیگر صوبوں خصوصاً خیبرپختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز زیادہ ہیں۔ ان کے بقول موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے جامع قانون سازی کی ہے تاکہ ریاست پر لگنے والے جبری گمشدگی کے الزامات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
تاہم دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، انسانی حقوق کے کارکنوں اور آئینی ماہرین نے ان دعوؤں کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی 2014 میں اسی نوعیت کی ترامیم کی گئیں، مگر عملی طور پر نہ تو جبری گمشدگیاں رکیں اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملا۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ طاقتور ادارے ان قوانین کو نظرانداز کر کے پہلے کی طرح ماورائے قانون اقدامات جاری رکھیں گے۔ نصراللہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں لاپتہ کیے گئے افراد کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے بعض کیسز میں مبینہ طور پر ان کی لاشیں ملیں، جس سے ریاستی دعوؤں پر عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ خدشہ بھی ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں اور احتجاج کرنے والوں کو اس قانون کے تحت اٹھا کر حراستی مراکز میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کو دبایا جا سکے۔
لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کرنے والے سینئر وکیل عمران بلوچ ایڈووکیٹ کے مطابق نئے قانون میں پریوینٹو ڈیٹینشن سینٹرز کا تصور شامل کیا گیا ہے جو برما یا چین کے طرز کے حراستی مراکز سے مشابہت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت بھی 90 دن کی حراست ممکن تھی، مگر اس میں ملزم کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا اور منصفانہ ٹرائل لازم تھا، جو نئے قانون میں نظر نہیں آتا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رکن حبیب طاہر ایڈووکیٹ کے مطابق اس قانون میں گواہوں اور جج کی شناخت کو خفیہ رکھا گیا ہے، جس سے شفاف عدالتی عمل ممکن نہیں رہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانا مقصود ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے منصفانہ ٹرائل دیا جانا چاہیے، نہ کہ خفیہ حراستی نظام کے ذریعے۔
بلوچستان کے معروف تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں نئی ترامیم سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ بلوچستان کی سیاسی محرومیاں، وسائل کا استحصال اور سیاسی انجینئرنگ ہے، جسے حل کیے بغیر ڈی ریڈیکلائیزیشن سینٹرز یا انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2025 ایک ایسے موڑ پر نافذ کیا گیا ہے جہاں حکومت اسے ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی کا ذریعہ قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ قانون بلوچستان میں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور سیاسی آوازوں کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔
