بنگلہ دیش میں نیا بحران: نئے وزیراعظم کا اصلاحات کے نفاذ سے انکار

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جیت کے باوجود بنگلہ دیش ایک نئے سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، وجہ یہ ہے کہ نئے انتخابات کے ساتھ ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں جن اصلاحات کے حق میں ووٹ پڑا ہے، نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان نے ان پر عمل درامد سے انکار کر دیا ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں بلال غوری بتاتے ہیں کہ ریفرنڈم کے تحت طے پایا تھا کہ اگر یہ کامیاب رہا تو نئی پارلیمنٹ پہلے 180 دن ’دستوری اصلاحات کونسل’ کے طور پر کام کرے گی، یعنی ابتدائی طور پر یہ دستور ساز اسمبلی ہوگی اور نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ اصلاحات کے تحت وزیر اعظم سیاسی جماعت کی قیادت اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا، کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ وزیراعظم منتخب نہیں ہو سکے گا، ایوان بالا یعنی سینیٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اور اس میں متناسب نمائندگی ہوگی تاکہ منتخب ارکان پارلیمنٹ براہِ راست سینیٹرز کا انتخاب نہ کریں بلکہ ہر جماعت کو اس کے حاصل کردہ ووٹ کے حساب سے نمائندگی ملے۔

 

بلال غوری بتاتے ہیں کہ نئی اصلاحات کے تحت عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل الگ کر کے آزاد اور خودمختار بنایا جانا ہے۔ وزیراعظم کے اختیارات کم کیے جائیں گے اور صدر کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے۔ الیکشن سے پہلے عبوری حکومت کے تحت National Consensus Commission تشکیل دیا گیا تھا، جس نے آئین میں 84 ترامیم تجویز کیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے مشاورت کے بعد ایک چارٹر پر دستخط ہوئے اور 48 آئینی ترامیم پر اتفاق رائے حاصل ہوا۔ چونکہ یہ ترامیم قانون ساز پارلیمنٹ کے ذریعے کی جاتیں تو عدالتوں میں چیلنج ہو سکتی تھیں، اس لیے 13 نومبر 2025ء کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل’’ کا قیام عمل میں آیا۔

 

بلال غوری بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے اس اصلاحاتی پروگرام کے تحت ’’نئے بنگلہ دیش‘‘ کا نعرہ لگایا اور عوام کو ریفرنڈم میں ’’ہاں‘‘ کے خانے میں ووٹ دینے کی ترغیب دی، جبکہ ’’ناں‘‘ کا مطلب تھا کہ آپ نظام نہیں بدلنا چاہتے۔

ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 12 فروری 2026ء کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی، اور ریفرنڈم میں بھی 60 فیصد سے زائد ووٹ ’’ہاں‘‘ کے حق میں پڑے۔ تاہم دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے باوجود بی این پی نے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔ 17 فروری 2026ء کو چیف الیکشن کمشنر نصیرالدین نے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ سے حلف لیا، لیکن ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘ کے ارکان کے طور پر حلف لینے سے بی این پی کے اراکین نے انکار کر دیا۔ بی این پی کے رہنما بیرسٹر صلاح الدین احمد نے موقف پیش کیا کہ موجودہ آئین میں ایسی کسی آئینی کونسل کی گنجائش موجود نہیں، اس لیے ان کے ارکان حلف نہیں اٹھائیں گے۔

 

یہ بات اہم ہے کہ جولائی چارٹر پر عملدرآمد کے لیے ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے لی گئی تھی اور تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کیے تھے۔ دو تہائی اکثریت کے باوجود اصلاحاتی ایجنڈے سے پیچھے ہٹنا دراصل جمہور کی توہین کے مترادف ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے اقدامات کا ماضی میں نتیجہ مثبت نہیں رہا۔ جماعت اسلامی کی سربراہی میں 11 جماعتی اتحاد نے محتاط ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ وزیراعظم اور دیگر ارکان پارلیمنٹ جلد ’’کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘‘ میں ملاقات کریں گے، لیکن بلال غوری کے مطابق اگر بی این پی من مانی کرے تو سیاسی استحکام کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے اور ملک دوبارہ انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔

 

بلال غوری کے مطابق اس صورتحال میں نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کے لیے معاشی بحران سے نمٹنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ قومی خزانے کا بوجھ کم کرنے کے لیے اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اعلان کیا کہ وہ ڈیوٹی فری گاڑیاں اور سرکاری پلاٹ نہیں لیں گے، اگرچہ یہ اقدام علامتی نوعیت کا ہے۔ تاہم، 59 رکنی کابینہ کے اعلان نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ عوام ناخوش ہیں کہ معاشی مشکلات کے شکار ملک میں 25 وزراء، 24 وزرائے مملکت اور 10 مشیروں کا بوجھ کیسے برداشت کیا جائے گا، جبکہ عبوری حکومت کے دور میں کابینہ صرف 28 افراد پر مشتمل تھی۔

ایران نے آبنائےہرمزبندکرنےکی تیاریاں کرلیں

بلال غوری کہتے ہیں کہ عام طور پر نئی حکومت کے ابتدائی چھ ماہ یا ایک سال کو ’’ہنی مون پیریڈ‘‘ سمجھا جاتا ہے، لیکن بنگلہ دیش کے موجودہ حالات اور عوام کے مزاج کے پیش نظر وزیراعظم طارق رحمان کو یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔ انہیں فوری طور پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے کہ جادوگر کی طرح اپنے ہیٹ سے کبوتر نکالنا۔

بلاشبہ بنگلہ دیش اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد میں تعطل، بی این پی کی ہچکچاہٹ اور 59 رکنی کابینہ کا بوجھ ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ بلال غوری کے مطابق حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر عوامی امنگوں اور مینڈیٹ کے مطابق اصلاحاتی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ نئے بحران کی چنگاری بھڑک سکتی ہے۔

 

Back to top button