تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر نئے الیکشن کا امکان

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی مجوزہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک نئے الیکشن کی طرف چلا جائے کیونکہ کپتان حکومت نے معیشت کا جتنا بیڑا غرق کر دیا ہے اسے بقیہ ڈیڑھ برس میں سنوارنا کسی جماعت کے بس میں نہیں ہوگا لہذا نہ تو پیپلزپارٹی اور نہ ہی نواز لیگ اگلی حکومت بنا کر ناکامی کا ڈھول اپنے گلے میں ڈالیں گے۔
نواز شریف کو بھی اس بات کا یقین دلایا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں کوئی جماعت وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار پیش نہیں کرے گی۔ اس سے ایک آئینی اور قانونی بحران پیدا ہوجائے گا جس کے نتیجے میں صدر کے پاس اسمبلی توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا لہذا ملک نے الیکشن کی طرف چلا جائے گا۔
معروف صحافی عمار مسعود اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ سارے ملک کی سیاست پر اس وقت تحریک عدم اعتماد کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ اپوزیشن اس بات پر مصر ہے کہ اس کے نمبر پورے ہیں۔ حکومت اس بات پر قائم ہے کہ ہم بچ جائیں گے۔ ہر طرف ملاقاتوں کا شور ہے۔ دوست دشمن شیر و شکر ہو رہے ہیں۔ گلے شکوے دور ہو رہے ہیں۔ لین دین کی گفتگو ہو رہی ہے۔ اختلافات بھلا کر نئے اتحاد منظر عام پر آرہے ہیں۔
کئی سٹیک ہولڈرز میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم سب نئے سیاسی منظر نامے میں اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ اس تحریک عدم اعتماد کو سنجیدگی سے دیکھیں تو مسلم لیگ ن کے حوالے سے بہت سے سوالات تشنہ نظر آتے ہیں جن کے جوابات کے لیے مستقبل قریب میں ہونے والوں فیصلوں کا انتظار کرنا ہو گا.
لیکن یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ تحریک عدم اعتماد کوئی غیر جمہوری غیر آئینی قدم نہیں ہے۔ یہ آئین پاکستان کا تفویض کردہ حق ہے جسے اپوزیشن کبھی بھی استعمال کرسکتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس بار لیکن صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سب سے نازک فیصلہ ن لیگ کے ہاتھ میں ہے۔
ن لیگ اس اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے جو ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ لے کر کئی برس سے چل رہی ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے اس جماعت نے بہت ماریں کھائیں، بہت عتاب سہا، لیکن اس کی صفوں میں اتحاد قائم رہا۔ بڑی ثابت قدمی سے اس جماعت نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا۔
اس کا مطمع نظر ہمیشہ سے نئے شفاف انتخابات رہا ہے۔ یہ ابھی تک اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی۔ کوئی ظلم ابھی تک اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ن لیگ عمران خان کی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دیتی۔ پانچ سال بعد انتخابات کے میدان میں اپنے بیانیے کی جنگ لڑتی، لیکن اب صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔
اپوزیشن سے 25 سال پرانے واقعات اور نواز شریف پر بات ہوئی
جماعت کے اندر بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں مزید سختیاں جھیلنے اور صبر کا یارا نہیں۔ انہیں یہ خوف بھی گھائل کر رہا ہے کہ اگر 2023 کے انتخابات میں بھی وہی ہوا جو گذشتہ انتخابات میں ہوا ہے تو وہ کیا کرلیں گے؟ دس سال کا عتاب کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں جھیل سکتی۔ اسی وجہ سے چند لوگوں نے تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈال دیا ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ بات سب کو واضح ہونی چاہیے کہ اسطرح کی تحریک عدم اعتماد اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب کچھ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ لین دین کی بات کی جائے۔ کسی بات پر سمجھوتہ کیا جائے اور کسی بات پر انا کا سودا کیا جائے۔ کہیں نظر جھکائی جائے اور کہیں اپنے اصول جھٹلائے جائیں۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اتحادی جماعتیں کمزور وکٹ پر ہیں لیکن تحریک عدم اعتماد کی مصلحتیں ان گروپس کو طاقت بخشیں گی۔ یہ طرز عمل ن لیگ کی موجودہ سیاست میں نہیں ہے۔
مزاحمت کی بات کرنے والے کبھی مفاہمت کا جھنڈا نہیں اٹھاتے۔ یہ درست ہے کہ ملکی معیشت کے حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ اس صورت حال میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے، لیکن یہ گمان کرنا ہے کہ ملک و معیشت کا جو حال ہوگیا ہے اس کو کوئی اور حکومت مختصر مدت میں درست کر سکتی ہے، صرف ایک احمقانہ خیال ہے۔
بقول عمار مسعود، اس ابتر صورت حال سے نکلنے کے لیے لانگ ٹرم پالیسیاں درکار ہیں اور مختصر مدت کی تبدیلیاں اس صورت حال کے کرب میں اضافہ تو کرسکتی ہیں اسے بہتر نہیں بنا سکتیں۔ اس دلیل سے مراد صرف اتنی ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کے بعد فوری طور پر انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا تو تحریک انصاف کی ساری کدورتیں اور کجیاں نئی حکومت کے نام ہوجائیں گی۔
لوگ انہیں الزام دیں گے اور چند ماہ میں نئی حکومت کو کوس رہے ہوں گے۔ نہ پیٹرول کی قیمت کم ہوسکتی ہے، نہ بجلی کے نرخ گر سکتے ہیں نہ خارجہ کے معاملات درست ہوسکتے ہیں اور نہ ہی مختصر مدت میں روزگار کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ بڑا المیہ یہ ہوگا کہ عمران اور ان کی جماعت چند ماہ میں ہی ’کم بیک‘ کر لیں گے۔ لوگوں کو نئے چہرے بُرے لگنا شروع ہوجائیں گے اور خان کی یاد ستانے لگے گی۔ ایسا ماضی میں اکثر ہو چکا ہے۔ ہمارے سیاسی مںظر نامے میں یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیں ہوگا۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ اگر عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں نئے شفاف انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو یہ ن لیگ کے لیے پھر بھی بہتر صورت حال ہوگی۔ اس میں نقصان کا اندیشہ کم ہے۔ نئے انتخابات نیا مینڈیٹ دیں گے اور پھر لانگ ٹرم منصوبوں پر کام کرنے کا وقت ملے گا۔ اتحادیوں کی سماجت بھی نہیں کرنا پڑے گی اور بیانیے کی قوت بھی قائم رہے گی۔ عمار کے مطابق نواز شریف کو بھی یہ یقین دلایا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں کوئی جماعت وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار پیش نہیں کرے گی۔
اس سے ایک آئینی اور قانونی بحران پیدا ہوجائے گا جس کے نتیجے میں صدر مملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے الیکشن کمیشن کا فیصلہ مںظر عام پر آجائے۔ اس صورت میں ن لیگ کا بیانیہ بھی قائم رہے گا، نئے الیکشنز کا عندیہ بھی مل جائے گا اور شفاف الیکشن کے بعد ملکی سیاسی اور معاشی صورت حال میں بہتری کا امکان بھی ہوگا۔
اس وقت اپوزیش کے تمام بڑے رہنما تحریک عدم اعتماد کے ڈھول کو خوب پیٹ رہے ہیں لیکن وہ جانتے ہیں کہ اس وقت عمران خان کے جانے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مستقبل کا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے تحریک عدم اعتماد ابھی ملاقاتوں تک محدود ہے کوئی حقیقی قرارداد ابھی تک پیش نہیں کی گئی۔ ان حالات میں ن لیگ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، ایک ذرا سی لغزش اسکی برسوں کی جدوجہد پر پانی پھیر سکتی ہے۔
