مریم نواز اور پرویز رشید کی نئی لیکڈ آڈیو میں کیا ہے؟

مریم نواز کی ٹیلیفونک گفتگو کا ٹریک رکھنے والوں نے اب ان کی ایک اور آڈیو ریلیز کر دی گئی ہے جس میں وہ سابق سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ گفتگو کرتی سنائی دیتی ہیں۔ مریم نواز اور پرویز رشید کی لیک ہونے والی آڈیو میں دونوں عمران خان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے سینئر صحافی حسن نثار اور ارشاد بھٹی کے بارے میں الزامات پر مبنی گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں۔
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ذریعے لیک کی جانے والی مبینہ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ دونوں لیگی رہنماؤں نے حسن نثار اور ارشاد بھٹی پر الزامات لگائے گئے کہ وہ انہیں گالیاں دیتے ہیں جبکہ جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں شامل تمام مبصرین ان کے مخالف ہیں۔ آڈیو میں مریم نواز سابق سینٹر پرویز رشید کو جیو گروپ کے لیے چند ہدایات دیتی سنائی دیتی ہیں، پرویز رشید کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ پروگرام رپورٹ کارڈ میں حسن نثار ہمیں گالیاں دیتے ہیں، اور اب جیو والوں نے اس پروگرام میں ارشاد بھٹی کو بھی شامل کر لیا ہے جنکے بارے میں بھی آپکو معلوم ہے کہ وہ کتنی گھٹیا گفتگو کرتا ہے۔
اس مبینہ آڈیو میں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ رپورٹ کارڈ میں مظہر عباس کی گفتگو بھی ہمارے خلاف ہوتی ہے، اس میں طنز بھی ہوتا ہے اور مذاق بھی، باقی اس پروگرام میں کوئی بندہ نہیں جس کوہمارا سپوک پرسن کہا جاسکے، ایخ بابر ستار ہے لیکن وہ آزادانہ رائے رکھتا ہے۔ اس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ بابر ستار بھی عام طور پر ہمارے حق میں نہیں بولتا ہے۔ مریم نے مزید کہا کہ حفیظ اللہ نیازی بھی ہمارا نقطہ نظر نہیں دیتا اور جس طرح یہ گالیاں دیتے ہیں یہی سلوک وہ عمران خان کے ساتھ بھی کرتا ہے، پھر انہیں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اب تو حفیظ اللہ نیازی کو بھی پروگرام سے ہٹا دیا گیا ہے اور انکا کالم بھی بند کر دیا گیا ہے، یہ بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے۔
بلوچستان سے اغوا ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی آ گئی
آڈیو میں مریم نواز نے مزید کہا کہ انکل میں ان لوگوں سے پوچھوں گی ناں کہ پہلے بتاؤ اسے کیوں ہٹایا ہے؟ اس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ آپ میرشکیل سے اس معاملے پر لازمی بات کریں۔ مریم نواز نے لیگی رہنما سے کہا کہ پہلے میں اس سے اندر کی خبر تو پوچھوں۔ اس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان پر جو چیک تھا اسے ختم کردیا گیا اور ہم پر بھونکنے والے لا کر بٹھا دیئے۔
مبینہ آڈیو میں مریم نواز کی جانب سے دوصحافیوں کو باسکٹس دینے کی بھی ہدایت کی گئی اور کہا گیا ابو آذربائیجان سے دو باسکٹس لائےہیں، ایک نصرت جاوید اور ایک رانا جواد کو بھجوانی ہیں۔
