سموگ کے تدارک کیلئےمختلف شہروں میں نئی پابندیاں عائد

پنجاب کےمختلف شہروں میں سموگ کے تدارک کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی گئیں۔

انوائرمینٹل پروٹیکشنل ایجنسی پنجاب کے ہدایت نامے کے مطابق لاہور ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں 17 نومبرتک تمام تجارتی مارکیٹس، دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجےبندہوں گے۔فارمیسی، میڈیکل اسٹور، میڈیکل لیبارٹریز، ویکسی نیشن سینٹرز، تندور، بیکریاں اور کریانہ اسٹورز پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔پٹرول پمپس، آئل ڈپو،دودھ کی دکانیں، سبزی و فروٹ کی دکانیں، چکن اورگوشت کی دکانیں بھی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیئے گئے۔

ہدایت نامے کے مطابق بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز صرف گروسری اور فارمیسی سیکشنز کو کھلا رکھ سکتےہیں۔

سموگ کے باعث شادی ہالز میں ان ڈور تقریبات پرانے اوقات رات 10 بجےتک ایس اوپیز کےساتھ جاری رہیں گی، آؤٹ ڈور ڈائننگ پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ ان ڈور ڈائننگ کے اوقات محدود رہیں گے، جمعرات تا اتوار رات 11 بجے تک ان ڈور ڈائیننگ اور ٹیک اوےیاپارسل کی اجازت رات ایک بجے تک ہوگی۔

ہدایت نامےکےمطابق بیرونی کھیلوں کےپروگرامز، نمائشوں اور تہواروں سمیت تمام بیرونی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی اور پابندیوں کی خلاف ورزی پر188 پی پی سی کے تحت کارروائی ہوگی۔

خیال رہےکہ پنجاب میں اسموگ کا زور کم نہیں ہوا اور  کچھ دیر پہلے تک لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست تھا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 1406 ریکارڈ  کیا گیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں سید مراتب علی روڈ کی فضا سب سے زیادہ آلودہ رہی جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس2236 ریکارڈ ہوا جبکہ گلبر گ میں2208 اور  پاکستان انجئیرنگ سروس میں ائیر کوالٹی انڈیکس1724 پر دیکھا گیا۔فیصل آباد میں ائیر کوالٹی انڈیکس405 اور ملتان میں338 نوٹ کیا گیا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے دی۔لاہور، کراچی اور ملتان سمیت ملک کے بیشتر شہر اور علاقے بدترین اسموگ کی لپیٹ میں ہیں  جہاں فضا میں پرٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد انتہائی خطرناک درجے تک ریکارڈ کی جاتی ہے۔

پاکستان کے فضائی معیار کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دی ہے۔

پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل نے کہا کہ پنجاب میں اسموگ کی تشویشناک صورتحال کے باعث اسکول بند کرنا ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر اسکول آن لائن کلاسز کی اہلیت نہیں رکھتے جس سے تقریباً 6 کروڑ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

Back to top button