وزیرِاعظم کی پیوٹن سے ملاقات کے انتظار کی خبر غلط ثابت ، آر ٹی انڈیا نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی

آر ٹی انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِاعظم شہباز شریف سے متعلق پوسٹ ڈیلیٹ کردی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے ’’انتظار‘‘ کر رہے تھے۔ آر ٹی انڈیا کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پوسٹ واقعات کی درست عکاسی نہیں کر رہی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وزیرِاعظم شہباز شریف ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ جمعے کے روز فورم کے موقع پر وزیرِاعظم نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صدر جپاروف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شامل تھے۔
وفاقی وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کی شب ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ شاندار ملاقاتیں ہوئیں اور عالمی سطح پر پاکستان نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آیا۔
شیئر کی گئی ویڈیو میں وزیرِاعظم شہباز شریف کو صدر ولادیمیر پیوٹن سے راہداری میں مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے پیوٹن، اردوان اور مسعود پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو گرمجوش اور خوشگوار تبادلۂ خیال قرار دیا۔
وزیرِاعظم کے غیر ملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے بھی یہی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ فورم میں شریک تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مثبت اور بامقصد ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے مطابق ملاقاتوں کے دوران روایتی گرمجوشی واضح طور پر نظر آئی۔
یہی ویڈیو پاکستان میں روسی سفارت خانے کی جانب سے بھی شیئر کی گئی۔
دوسری جانب آر ٹی انڈیا نے مبینہ طور پر ایک مختلف ویڈیو پوسٹ کی تھی، جسے بعد ازاں ایکس سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ جمعے کی رات جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے کہا کہ ترکمانستان میں منعقدہ پیس اینڈ ٹرسٹ فورم کے دوران پاکستانی وزیرِاعظم کے صدر پیوٹن سے ملاقات کے انتظار سے متعلق پوسٹ کو حذف کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ واقعات کی غلط تشریح ہو سکتی تھی۔
واضح رہے کہ آر ٹی انڈیا، روس کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے عالمی میڈیا نیٹ ورک آر ٹی کی نئی شاخ ہے، جس کا افتتاح گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آر ٹی انڈیا کی حذف کی گئی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے صدر پیوٹن کا 40 منٹ تک انتظار کیا اور بعد ازاں ترک صدر اردوان اور پیوٹن کی ملاقات میں بغیر اجازت داخل ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیرِاعظم چند منٹ بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔
تاہم روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف بعد میں صدر اردوان اور صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شامل ہوئے، جو بند کمرے میں تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
