’’ندا یاسر کا مارننگ شو ایک مرتبہ پھر تنقید کی زد میں‘‘

معروف ہوسٹ ندا یاسر کا مارننگ شو براہ راست پیڈی کیور کا سیگمنٹ دکھانے پر تنقید کی زد میں آ گیا ہے، حالیہ شو میں انہوں نے شریک خواتین سے گپ شپ کے سات ساتھ ان کے لیے لائیو پیڈی کیور کا انتظام بھی کررکھا تھا۔سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے طور پر شہرت پانے کے بعد اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے والی تمکنت نے اس شو سے ایک سکرین شاٹ ایکس پر شیئر کیا جس میں شریک سیلیبرٹیز کو لائیو پیڈی کیور کرواتے دیکھا جا سکتا ہے۔شو دیکھنے والی تمکنت نے کیپشن میں لکھا، ’اے آر وائی ڈیجیٹل کا مارننگ شو، جہاں اشرافیہ سے وابستہ خواتین کو ٹی وی پر لائیو پیڈی کیور کیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ اس بات پر بھی اظہار خیال جاری ہے کہ وہ نوجوانی میں اپنے جسم کے بالوں سے کتنی بیزار تھیں۔اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرنے والی ڈیجیٹل جرنلسٹ اور ریسرچر سعدیہ احمد نے بھی تمکنت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا یہ شو کئی سطحوں پر پریشانی کا باعث ہے، سعدیہ احمد کے مطابق یہ نوجوان لڑکیوں میں باڈی ڈسمپوریا کو بھی فروغ دے رہا ہے۔واضح رہے کہ باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر ایک ذہنی صحت کی حالت ہے جس میں مبتلا افراد ظاہری شکل وصورت میں ایک یا ایک سے زیادہ مبینہ نقائص یا خامیوں کے بارے میں سوچنا بند نہیں کر سکتے ہیں، بظاہر یہ نقص معمولی لگتا ہے یا دوسروں کے ذریعے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن اس ڈس آرڈرمیں مبتلا فرد کو شرمندگی اور تشویش محسوس ہوتی ہے۔باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر کا شکار افراد ظاہری شکل اور جسم کی شبیہہ پر شدت سے توجہ مرکوز کرتے ہیں، بار بار آئینہ دیکھتے ہیں اور اپنی مبینہ خامی کو ”ٹھیک“ کرنے کی کوشش کرنے کیلئے متعدد کاسمیٹک طریقہ کار تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد عارضی اطمینان یا پریشانی میں کمی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ اضطرابی کیفیت پھر واپس آتی ہے اور مبینہ خامی ٹھیک کرنے کیلئے دوسرے طریقوں کی تلاش دوبارہ شروع کر دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ تبازعات کی زد میں رہنے کے باوجود ندا یاسر 16 سال سے کامیابی کے ساتھ مارننگ شو کی میزبانی کر رہی ہیں جس کی وجہ ان کے شو کی بھرپور ریٹنگ ہے، گھریلو خواتین کی اکثریت اس شو کو بہت شوق سے دیکھتی ہے۔

Back to top button