27 مارچ کے جلسے میں آرمی چیف بارے کوئی اعلان کرنے والا نہیں

وزیراعظم عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں اپنے جلسے کے دوران آرمی چیف کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کرنے جا رہے۔ انکا کہنا ہے کہ جس ترپ کے پتے کا وہ ذکر کر رہے ہیں اس کا کسی فوجی تقرری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی ایسا سرپرائز دینے والے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز پہلے وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ وہ 27 مارچ کے جلسے میں اپنا ترپ کا پتہ استعمال کرتے ہوئے ایک بڑا سرپرائز دیں گے جس سے کھیل کا نقشہ ہی پلٹ جائے گا۔ ان کے اس اعلان کے بعد اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم تھیں کہ شاید عمران خان اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے 27 مارچ کو جنرل قمر باجوہ کی جگہ جنرل فیض حمید یا کسی اور جرنیل کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے کا اعلان کر دیں۔
ان افواہوں کی بڑی وجہ تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سے ماضی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونے سے انکار کرنا ہے۔ فیض حمید کے جانے اور ندیم انجم کے آنے کے بعد سے فوجی قیادت یہ واضح پالیسی اپنا چکی ہے کہ اسنے سیاست میں مداخلت نہیں کرنی اور مکمل نیوٹرل رہنا ہے۔
سینیئر صحافی انصار عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ترپ کے پتے کا فوج سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی وہ 27 مارچ کو آرمی چیف کے حوالے سے کوئی اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنا اور اس کی ساکھ متاثر کرنے کا مطلب پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں وسیع پیمانے پر پھیلی اد افواہ کی تردید کی کہ ان کے ترپ کے پتے کا تعلق پاک فوج کے حوالے سے ممکنہ طور پر کسی فیصلے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جس بات پر وہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں وہ قومی سطح پر اخلاق سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات یہ نہیں کہ حکومت کون تشکیل دیتا ہے، لیکن کسی بھی ملک کو تباہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا جائے۔
وزیراعظم کا کہنانتھا کہ وہ اس طرز عمل پر تنقید کر رہے ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے وفاداری تبدیل کی، اگرچہ وزیراعظم نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کا سرپرائز یا ترپ کا پتہ کیا ہوگا لیکن انکے قریبی فواد چوہدری نے بتایا کہ یہ خالصتاً سیاسی معاملہ ہے، اور اس کا انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں۔ افواہوں کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کوئی سازشی شخص نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں جن سوالوں پر بحث ہو رہی ہے کہ وزیراعظم اہم تقرریوں پر غور کر رہے ہیں وہ سب بیکار باتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب افواہیں ہیں، وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ فوج کا ادارہ پاکستان اور اس کی سالمیت کیلئے انتہائی اہم ہے اور اسلئے ادارے کی حفاظت کرنا چاہئے نہ کہ اسے بدنام کرنا چاہئے۔
دوسری جانب دارالحکومت میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ وزیر اعظم فوج میں کچھ اہم تقرریاں کرنے والے تھے لیکن وارننگ ملنے کے بعد فیصلہ تبدیل کر دیا۔ اس سے پہلے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ عمران خان 27؍ مارچ کو عوامی اجتماع کے دوران فوج میں اہم عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم کے نیچے سے پوری پارٹی کھسک چکی ہے
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان افواہوں کا سخت نوٹس لیا تھا اور وزیر اعظم ہاؤس کو ایسا کوئی مس ایڈونچر نہ کرنے کی وارننگ دے دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مکنے والو پیغام اتنا واضح اور سخت تھا کہ وزیراعظم نے فوری طور پر وضاحت کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے سابقہ موقف سے یوٹرن لے لیا۔
دوسری جانب فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سیاست اور میڈیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان تنازع پیدا کرنے کیلئے افواہوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔فواد نے کہا کہ وزیر اعظم کیلئے فوج کا ادارہ انہیں خود سے بھی زیادہ عزیز ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حلقوں کو قصور وار قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ فوج کے غیر جانبدار رہنے کے موقف کیخلاف مہم چلا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہم چلانے والوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی کو کسی بھی طرح سے فوج کیخلاف مہم سے جوڑا نہیں جانا چاہئے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ فوجی قیادت کے خلاف نیوٹرل رہنے پر جو ملک گیر سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے اس میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس تحریک انصاف سے وابستہ ہیں۔
No announcement was made about army chief in March meeting ] video
