قومی اسمبلی: عدم اعتماد بحث، ووٹنگ کیلئے منظور کیے جانے کا امکان

سپیکر اسد قیصر کی جانب سے قومی اسمبلی کے آج ہونیوالے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد باقائدہ بحث اور ووٹنگ کیلئے منظور کیے جانے کی توقع ہے، اس کے بعد 3 سے 7 روز پر مشتمل تحریک عدم اعتماد کا آئینی عمل شروع ہو جائیگا۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کیے جانیوالے قومی اجلاس کے ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد کو سرفہرست رکھا گیا ہے جبکہ 27 نکاتی ایجنڈے میں حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل بھی پیش کیا جائیگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں عدم اعتماد کی تحریک شامل ہے تاہم یہ بات حتمی نہیں کہ اس تحریک کو آج ہی ایوان میں پیش کر دیا جائے گا اور اس پر بحث شروع کرائی جائے۔ایجنڈے کے مطابق اجازت ملنے پر اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی جمع کرائی گئی تحریک ایوان میں پیش کرے گی۔
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بتایا کہ اگر سپیکر پیر کو تحریک عدم اعتماد پر کارروائی شروع کرتے ہیں تو پیر سے ہی دنوں کی گنتی شروع ہو جائے گی تاہم ووٹنگ کا عمل تین دن سے قبل نہیں ہو سکتا۔
یاد رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی جبکہ سپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس طلب کیا تھا تاہم پہلے دن ایک ایم این اے خیال زمان کی وفات پر فاتحہ کے بعد اجلاس کا ایجنڈا معطل کر دیا گیا تھا۔آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی کارروائی شروع ہونے کے بعد تین سے سات دن کے اندر اس پر ووٹنگ کرانا ضروری ہے۔
خیال رہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن کے 152 ارکان کے دستخط ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کے 162 ارکان ہیں تاہم جمعے کو ہونے والے اجلاس میں تین ارکان غیرحاضر تھے۔ان تین ارکان میں سے ایک آزاد رکن علی وزیر کراچی کی جیل میں ہیں۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم بیرون ملک ہیں۔اسی طرح جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے چترال سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے تاحال عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا واضح اعلان نہیں کیا اور وہ پارٹی کی ہدایات کے منتظر ہیں۔
ادھر حکمران جماعت تحریک انصاف کے اتحادیوں نے تاحال اپنے کارڈز شو نہیں کیے تاہم ان کی ملاقاتوں میں پیر کو تیزی آ گئی ہے۔ خاص طور پر پنجاب جہاں اتحادی جماعت مسلم لیگ ق اپوزیشن سے وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے وہاں پیر کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد لگتا ہے اتحادی جلد کوئی فیصلہ کرنے والے ہیں۔
پنجاب کی صورتحال سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ق اور اپوزیشن کے معاملات حتمی مراحل میں داخل ہو رہے ہیں اور وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے ان معاملات کو خراب کرنے کے لیے اسمبلی توڑنے کا سدباب تحریک عدم اعتماد کی شکل میں کیا گیا ہے۔
یاد ہے کہ پیر کو مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی ملاقات کے علاوہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی قیادت کے درمیان بھی اسلام آباد میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق مسلم لیگ ق کا وفد چوہدری پرویز الٰہی کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ملاقات کرے گا۔ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی اس ملاقات میں سینیئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان، وسیم اختر، امین الحق، کشور زہرہ، خواجہ اظہار الحسن اور جاوید حنیف شریک ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطحی وفد نےبھی چودھری برادران سےاسلام آباد میں رہائش گاہ پر ان سے ملا قات کی ہے۔ جس میں تحریک عدم اعتماد، موجودہ ملکی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزریر چودھری طارق بشیر چیمہ، مونس الہیٰ، ارکان قومی اسمبلی سالک حسین، حسین الٰہی اور سینیٹر کامل علی آغا نے ق لیگ جبکہ وفاقی وزرا اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کی نمائندگی کی۔
