وزیراعظم آزادکشمیرانوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد،اسمبلی اجلاس طلب

وزیراعظم آزادکشمیرانوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد،آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 17 نومبر کو طلب کرلیا۔

اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کراتے ہوئے راجا فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کیا ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک وزرا چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، ملک ظفر اقبال، ممبران اسمبلی علی شان سونی، محمد رفیق نیئر نے جمع کروائی۔

قبل ازیں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو استعفیٰ دینے کا پیغام بھجوایا گیا تھا تاہم انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ ماہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دی تھی۔

آزاد کشمیر کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتوار 26 اکتوبر کی رات سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا تھا جس میں قانون ساز اسمبلی کے 27 ارکان نے شرکت کی تھی۔

اسی روز آزاد کشمیر کے 10 وزرا جن کا تعلق پی ٹی آئی فارورڈ بلاک سے تھا، فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے، یوں پیپلز پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔

اس ڈنر کے بعد وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو پیغام بھجوایا گیا تھا کہ وہ عہدے سے استعفیٰ دے دیں ورنہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائےگی۔

آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 7 روز کے اندر ووٹنگ ہونا ضروری ہے۔

صدر ریاست 7 روز کے اندر اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہیں، جس کے بعد اسپیکر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کراتے ہیں۔

اگر تحریک کامیاب ہو جائے تو نیا قائد ایوان (جس کا نام عدم اعتماد کی تحریک میں درج ہوتا ہے) منتخب ہو جاتا ہے۔

اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے تو ایسی صورت میں آئندہ 6 ماہ تک تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جا سکتی۔

واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں 5 سالہ آئینی مدت میں یہ چوتھا وزیراعظم ہوگا، اس سے قبل 3 وزرائے اعظم کرسی اقتدار سے جا چکے ہیں۔

 

Back to top button