سپیکر کی بجائے وزیراعظم کے خلاف ہی عدم اعتماد کا فیصلہ

اپوزیشن ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نمبرز گیم پوری ہو جانے کے بعد حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے مابین موجود تمام اختلافی امور پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا یے کہ

پہلے تحریک سپیکر قومی اسمبلی کی بجائے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ہی لائی جائے گی

جسکے بعد 14 روز کے اندر اس پر ووٹنگ کروانا لازمی ہوگا۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے یہ بحث جاری تھی کہ تحریک عدم اعتماد پہلے اسپیکر کے خلاف لائے یا وزیر اعظم کے خلاف۔ کچھ پارلیمنٹرین کا موقف تھا کہ چونکہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں خفیہ رائے شماری ہوگی اس لئے کامیابی کا امکان یقینی ہے لہذا پہلے اسد قیصر کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ ان کا موقف تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران شو آف ہینڈ کا طریقہ اپنایا جائے گا جس میں حکومتی اراکین اسمبلی کا عمران خان کے خلاف سامنے آ کر کھڑا ہونا مشکل ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک میں شکست کھا جاتے ہیں تو وزیراعظم پر لازم ہوجائے گا کہ وہ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں لہٰذا 172 ممبران اسمبلی کی حمایت کا دعوی ثابت کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن کی بجائے وزیراعظم کے سر پڑ جائے گی۔

لیکن لمبی بحثوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ براہ راست عمران خان پر ہی حملہ آور ہوں گے اور ان ہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں حکومتی جماعت کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی ہے کہ اب انہیں اپنی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین ہو چکا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا یے کہ حزبِ اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کے درمیان ’اب اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک وزیرِ اعظم کے خلاف لائی جائے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ بھی زیرِ غور تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد پہلے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف لائی جائے اور پھر وزیرِ اعظم کے خلاف تاہم اب اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ تحریک عدم اعتماد خود وزیرِ اعظم کے خلاف لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جس اتحاد کی ضرورت ہے وزیرِ اعظم وہ بنانے میں ناکام رہے ہیں، وہ ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔‘

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جلد ہی پیش کر دی جائے گی۔ ’ہماری تیاری مکمل ہے۔ تحریک 48 نہیں تو 72 گھنٹے میں پیش ہو جائے گی۔‘ پیپلز پارٹی کی سینیٹر سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کا آئیڈیا تھا کہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی جائے۔ اپوزیشن کی باقی جماعتیں اب اس پر متفق ہوئی ہیں۔‘

عدم اعتماد کی تحریک کے طریقہ کار کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بتایا کہ تحریک پیش کرنے کے لیے حزبِ اختلاف قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست دے گی۔ اجلاس 14 روز میں طلب ہو گا اور اس کے بعد تحریک پر کارروائی سات روز کے اندر مکمل ہونی ہوتی ہے۔

اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنا ہو گا۔ اس کے بعد آئین کے مطابق صدرِ قومی اسمبلی کی دوسری بڑی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ اس جماعت کو 172 ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنی ہو گی تا کہ وہ حکومت بنا سکے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی تو صدر تیسری جماعت کو دعوت دے سکتے ہیں۔ آئین کے مطابق صدر اس دوران ہٹائے گئے وزیرِ اعظم کو اس وقت تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں جب تک نیا وزیرِ اعظم منتخب نہیں ہو جاتا تاہم اس دوران وہ وزیرِ اعظم اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ایک مرتبہ جب اکثریت حاصل کرنے کے بعد دوسرا وزیرِ اعظم منتخب ہو جاتا ہے تو اس کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ اسمبلی تحلیل کر دے جس کے بعد نئے انتخابات نگران حکومت کے تحت ہوں گے۔ آئین کے مطابق اگر وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور ہو جائے اور کوئی بھی دوسری جماعت یا امیدوار واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے تو صدر اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ایک نگراں حکومت نئے انتخابات کروائے گی۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے اپوزیشن جماعتوں کے مابین فوری الیکشن کرانے پر اتفاق نہیں تھا لیکن اب پیپلزپارٹی بھی مان گئی ہے۔ 3۔مارچ کو آصف زرداری سے ملاقات کے بعد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے پیش کرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان آئندہ ایک دو روز میں کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے کچھ سینئر رہنماؤں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اپوزیشن جماعتیں عدم اعتماد کے اقدام کی کامیابی کے بعد قبل از وقت انتخابات پر تقریباً متفق ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے بلاول بھٹو نے بھی بعض انتخابی اصلاحات کے بعد فوری انتخابات پر رضامندی کا اشارہ دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ اپوزیشن کی وزیراعظم خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوششوں میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان جلد الیکشن ایک وجہ تنازعہ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے کہا کہ آصف زرداری اب جلد انتخابات پر آمادہ نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ نئے انتخابات سے قبل 3 سے 6 ماہ کے لیے عبوری وزیراعظم کون ہوگا اور صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل پر بھی بات چیت جاری ہے۔
اگرچہ زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی شہباز کو عبوری وزیر اعظم بنائیں لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے اہم مطالبے کو تسلیم کرنے کے بعد یہ نشست پیپلز پارٹی کے پاس بھی جا سکتی ہے۔

No-confidence motion against the PM instead of Speaker video

Back to top button