وزیراعظم سے پہلے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز

آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی زیر قیادت پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کے مابین بلاول ہاؤس لاہور میں ہونے والی ملاقات کے دوران پیپلزپارٹی نے یہ تجویز دی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا جھٹکا کیا جائے تاکہ وزیر اعظم کو فارغ کرتے وقت کسی انہونی کی گنجائش ختم ہو جائے.

سابق صدر آصف علی زرداری سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ملاقات کی۔اپوزیشن لیڈر وفد کے ہمراہ لاہور میں بلاول ہاؤس پہنچے جہاں آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال سمیت تحریک عدم اعتماد اور دیگر آپشنز پر گفتگو کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے حکومت کے 10 سے 15 ناراض ارکان کے استعفوں کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اگر ناراض حکومتی ارکان استعفے دے دیں تو حکومت سادہ اکثریت کھو دے گی اور اپوزیشن عدم اعتماد کی بجائے وزیراعظم سے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی تجویز پر پیپلزپارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ  اسپیکر نےناراض حکومتی ارکان کے استعفے قبول نہ کیے تو سبکی ہوگی، اس وقت اپوزیشن کی سیاست اور ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، ہمیں بہت سوچ سمجھ کر اور پھونک پھونک کر حکومت کے خلاف فیصلہ کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے پہلے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانے کی تجویز دی اور کہا کہ اسپیکر کو ہٹائے بغیر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں مشکلات ہوں گی کیونکہ وزیراعظم کےخلاف اعتماد کے ووٹ کا معاملہ بھی ہوا توبھی اسپیکراہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

پیپلزپارٹی نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف میدان میں اترا جائے۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ نے پیپلز پارٹی کی تجویزپارٹی قائد نوازشریف کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ سابق صدر آصف علی زرداری سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، ملاقات میں پی پی پی چئیرمن بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی(ف) کے پارلیمانی قائد مولانا اسعد محمود بھی موجود تھے۔

اعلامیے کے مطابق رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم گفتگو کی اور فیصلہ کن اقدام پر مشاورت بھی کی۔ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ مہنگائی کی آگ عوام کے گھر جلا رہی ہے، حکومت کو گھر بھجوا کر عوام کو اس ظلم سے بچایا جا سکتا ہے، عوام کی خواہشات پوری کرنے کے لئے تندہی سے کام کریں گے، ان شاءاللہ جلد رزلٹ دیں گے، فسطائیت اور آمریت کو پیکا ترمیمی قانون کا نام دیا گیا ہے، میڈیا اور اظہار رائے کی آزادیاں چھیننے والے حکمران سے اقتدار چھین لیں گے۔

پیکا قانون میں ڈریکونین ترامیم کی معطلی کا امکان

سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ملک میں بدامنی اور لاقانونیت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کی جان ومال اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ بعد ازاں سابق صدر آصف زرداری ، شہبازشریف، مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو نے کل مشترکہ ملاقات کرنے پر اتفاق کیا، تینوں جماعتوں کی سینئر قیادت کی ملاقات کل دوپہر شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہوگی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کی قیادت تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے حکمت عملی کو حتمی شکل نہ دے سکی جس کے پیش نظر کل شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس کی میزبانی مسلم لیگ ن کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کئی رہنماؤں کی عدم موجودگی کے باعث مشاورت مکمل نہ ہو سکی، کل کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمن بھی شریک ہوں گے جو پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اسی حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں کی آپس میں اور حکومتی اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں  ہو رہی ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل سابق صدر آصف زرداری نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی تھی۔اس سے قبل 5 فروری کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جہاں نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور حمزہ شہباز کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ آج عوام کی منشا ان کے ماتھے پر لکھی ہوئی ہے، اگر ہم نے بطور سیاسی جماعتوں، سیاسی قیادت اور سیاسی کارکن کے اپنا ذمہ دارانہ کردار اور ذمہ داری ادا نہ کی تو پھر ہمیں آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی اور اس وقت قوم بھی معاف نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اگر ہم اکٹھے نہ ہوئے اور اپنے اندر ہم آہنگی پیدا نہ کی اور ہم نے ایک ایجنڈے پر اتفاق نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی، اس لیے ہم نے اتفاق کیا کہ ملک کو اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کروانے اور عوام کے دکھوں کو ختم کرنے کے لیے، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے عوام کو بچانے کے لیے تفصیل سے گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمیں تمام آئینی، قانونی اور سیاسی حربوں کو بلاتاخیر استعمال کرنا ہوگا، پی پی پی اس بارے میں واضح ہے لیکن ہماری جماعت میں دو رائے تھی مگر نواز شریف میں بہت حد تک یکسوئی ہے۔

Back to top button