وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا،وزیردفاع کی تردید

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کی بات ہے، لیکن اسے بحران کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، اس وقت وہاں پر کوئی آپریشن نہیں ہورہا، تاہم انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں، جن کا اسے حساب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، کیوں کہ یہ جگہ 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے، جہاں سخت سردی پڑتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت سارا ملبہ آپریشن پر ڈال رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں، 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں اہم امور طے پائے اور فیصلہ ہوا کہ علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، اب آپریشن سے متعلق مفروضوں سے کام لیا جارہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہاکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھیں تو اس علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانہ موجود نہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہزاروں فٹ بلندی پر واقعے ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے حاصل رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی لوگ لیتے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہاکہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کوئی انوکھی چیز نہیں، لیکن پی ٹی آئی نے اسے انوکھا بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیاکہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 500 لوگ موجود ہیں، ہمیں جہاں ان کے حوالے سے اطلاع ملتی ہے، قانون نافذ کرنے والے وہاں جاکر کارروائی کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت کے کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، 4 سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو۔

Back to top button