غزہ جنگ بندی پرکوئی پیشرفت نہ ہوسکی،نیتن امریکہ سے روانہ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں کسی واضح پیش رفت کے بغیر وائٹ ہاؤس کا دورہ مکمل کر لیا اور واپس روانہ ہو گئے۔
نیتن یاہو نے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو روز میں دو مرتبہ ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک تھے۔ ملاقاتیں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوئیں اور پیر کی رات عشائیے میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی کھل کر تعریف کی۔
نیتن یاہو نے ملاقات کے بعد بیان دیا کہ "ہم اپنی کوششیں ایک لمحے کے لیے بھی ترک نہیں کر رہے، اور یہ سب ہماری فوجی حکمت عملی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں تین بنیادی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے: تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی عسکری و انتظامی صلاحیت کا خاتمہ، اور غزہ کو اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بننے دینا۔
انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیل-امریکا مشترکہ کارروائیوں کو "امن کے امکانات” کی توسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابراہیم معاہدوں کے دائرہ کار میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ اس موقع پر نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا خط بھی پیش کیا۔
تاہم، دورے کے اصل مقصد یعنی غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے کوئی بڑا یا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جنہوں نے پہلے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کا عندیہ دیا تھا، نے اپنا دوحہ کا طے شدہ دورہ ملتوی کر دیا ہے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کے لیے تھا۔ اس فیصلے کو مذاکراتی جمود کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
