نوبیل انسٹیٹیوٹ نے عمران خان کی نامزدگی کا دعویٰ مسترد کردیا

نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے ناروے کی سینٹر پارٹی کی جانب سے عمران خان کی نوبیل انعام کےلیے نامزدگی کی خبروں کو ناروے میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ لینے کی ترکیب قرار دے دیا۔
نوبیل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کرسٹیان برگ ہارپ ویکن نے کہا کہ نامزدگی سے پہلے نامزدگی کا اعلان کرکے ناروے کے پاکستانی ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔
کرسٹیان برگ ہارپ نے کہاکہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی رہنما نے نوبیل انعام نامزدگی کا اس طرح استعمال کیا جس سے نوبیل انعام کے وقار کو نقصان پہنچا ہے۔
نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھاکہ اس کے کئی نتائج ہوں گے یہ غلط تاثر قائم ہوگا کہ کوئی نارویجن سیاستدان نوبیل امن انعام کی نامزدگی پر اثر انداز ہوسکتا ہے، انعام دینے کےپورے عمل پر شکوک و شبہات پیدا ہوجائیں گے، انعام کےلیے نامزد شخص اور انہیں نامزد کرنے والے دونوں کےلیے سکیورٹی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں سٹورٹنگ کے رکن نامزدگی کے حوالے سے بات کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ خاص بات یہ ہےکہ ایک ایسا شخص نامزدگی کی بات کررہا ہے جو اس ایوان میں موجود نہیں لیکن یہاں بیٹھنا چاہتا ہے۔
عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا کسی کو کوئی ٹاسک نہیں دیا : ترجمان پی ٹی آئی
یاد رہے کہ ناروے کی سینٹر پارٹی نے عمران خان کو نوبیل امن انعام کےلیے نامزد کرنے کی بات کی تھی۔
نارویجن ذرائع ابلاغ کےمطابق جنوری میں ایک لائیو اسٹریم کی دوران سینٹر پارٹی کے رہنما گائیر لپسٹاڈ نے کہا تھاکہ ناروے سب سے بڑا کام یہ کرسکتا ہے کہ عمران خان کو امن انعام کےلیے نامزد کیا جائے،یہ نامزدگی سٹورٹنگ Storting (نارویجن قانون ساز ایوان) کے اراکین کرتے ہیں اور ہم انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے یا پھر عوام الیکشن میں ہماری حمایت کریں تاکہ ہم ایواں میں جاکر عمران خان کو امن انعام کےلیے نامزد کرسکیں۔