سوشل میڈیا پر نون لیگ اپنوں اور بیگانوں کے نشانے پر کیوں؟

پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے 12ویں عام انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم اور ق لیگ سمیت مختلف اتحادی جماعتوں نے شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد نواز شریف وزیراعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے پارٹی صدرشہباز شریف کو وزیراعظم اور سینئر نائب صدر مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کردیا ہے۔ جس کے بعد پارٹی ورکرز کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے اور مختلف صحافتی حلقے بھی نواز شریف کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔
محمد اشفاق لکھتے ہیں کہ ن لیگ نے دو نعرے لگائے۔ پہلے ’ووٹ کو عزت دو‘ والا نعرہ اور پھر ’پاکستان کو نواز دو‘ والا نعرہ لیکن دونوں پر عمل نہیں ہوسکا۔
اینکر غریدہ فاروقی نے ن لیگ کی جانب سے چند روز قبل دیے جانے والے اشتہار ’عوام نے فیصلہ سنا دیا، نواز شریف وزیراعظم‘ کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ن لیگ نے اب ان کا کیا کرنا ہے ؟ کیا نواز شریف صرف پوسٹر بوائے تھے؟
صحافی مطیع اللہ جان لکھتے ہیں کہ اس کے بعد نواز شریف کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے اور ن لیگ کبھی حکومت نہیں بنا پائے گی، نواز شریف کے ساتھ باقاعدہ ہاتھ ہو گیا ہے، شہباز شریف کی بھی آخری وزارت عظمیٰ ہے جس میں آصف زرداری کا ایوانِ صدر حاوی ہو گا اور پارلیمنٹ اتنی کمزور کہ جیسے کوئی صدارتی نظام۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے علی امین گنڈاپور سے پنجاب کا شہباز شریف نہیں سندھ کا سربراہ ریاست ہی ڈیل کر سکے گا۔
سینئر صحافی کامران خان نے لکھا کہ ن لیگ کی تمام لیڈرشپ بشمول نواز شریف اورمریم بی بی اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی سے پہلے سے طے ہے کہ مخلوط حکومت بننی ہے، شہباز شریف وزیر اعظم ہونے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے انتخابی مہم میں وزیر اعظم نواز شریف کا ڈرامہ رچایا گیا، کروڑوں روپے خرچ کر کے تمام اخبارات کے فرنٹ پیج پر ’نواز شریف منتخب‘، ’ نواز کو نواز دو‘ دھوکہ باز اشتہارات کی مہم چلی۔ اوّل نواز شریف وزیر اعظم بن سکے ہیں نہ آخر بن سکتے ہیں اسی لیے خواجہ آصف نے سچ اگل دیا۔ اب نواز شریف کے قریبی ن لیگی لیڈر خواجہ کی جان کو آرہے ہیں۔
نواز شریف وزیراعظم والا اشتہار شیئر کرتے ہوئے وجاہت کاظمی نے لکھا کہ اب اس کا کیا کرنا ہے؟
جہاں ایک طرف صحافتی حلقوں نے لیگی قیادت کو ہدف بنا رکھا ہے وہیں مسلم لیگ ن کے ورکرز کی جانب سے بھی قیادت کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خرم عباسی نامی صارف نے لکھا کہ ’ میں میرے چار بہن بھائی، میرے امی ابو ، میرے ابو کے 14بہن بھائی اور آگے ان کے 65سے اوپر بچے جو ستر فیصد مسلم لیگی سپورٹر ہیں سب اس فیصلے کیلیے بس اتنا کہیں گے آصف غفور کی طرح، ریجیکٹڈ‘
حسین فہد نامی ایکس صارف نے قیادت کے اس فیصلے پو مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ اتنے عرصے سے میاں نواز شریف صاحب کے وزیراعظم بننے کے لیے انتظار کر رہے تھے اور آج جا کے پتہ چلتا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب وزیراعظم کے امیدوار ہی نہیں ہے‘
ایک اور ایکس صارف مبین نے لکھا کہ ’ہم نہیں مانتے، وزیر اعظم صرف نواز شریف‘
جہاں کئی لیگی ورکرز اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں وہیں کچھ ورکرز پارٹی چھوڑنے کا اعلان بھی کرتے نظر آتے ہیں‘
محمد منہاج عباسی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ دل ٹوٹ گيا آج پهر پہلى محبت كى طرح‘
صحافی خرم انصاری نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’نواز شریف کو بس کبوتر بازی کے لیے بلایا گیا تھا‘
دوسری جانب بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کا جواب دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے سیاست سے کنارہ کشی کی خبر میں کوئی سچائی نہیں۔مریم نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا کہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول نا کرنے کا مطلب اگر یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی سچائی نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے 5 سال وہ نا صرف بھرپور سیاست کریں گے بلکہ وفاق و پنجاب میں اپنی حکومتوں کی سرپرستی کریں گے ان شاءاللّہ۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی تینوں حکومتوں میں عوام نے واضح اکثریت دی تھی اور یہ بات وہ انتخابی تقاریر میں میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی مخلوط حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، جو لوگ نواز شریف کے مزاج سے واقف ہیں انھیں نواز شریف کے اصولی موقف کا پتہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف اور میں ان کے سپاہی ہیں، انکے حکم کے پابند ہیں اور ان کی سربراہی اور نگرانی میں کام کریں گے- اللّہ ہمیں کامیابی
عطا فرمائے۔ آمین۔
