مولانا کیخلاف نون لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہو گئیں

الیکشن کمیشن کی جانب سے جہاں جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے وہیں دوسری جانب ماضی قریب کی اتحادی جماعتیں الیکشن کے انعقاد بارے باہم صف آراء ہو چکی ہیں۔ جہاں جمیعت علمائے اسلام انتخابات سے قبل ملکی معیشت کی بحالی کی خواہشمند دکھائی دیتی ہے وہیں الیکشن کے التواء پر پیپلز پارٹی نے بھیجے یو آئی کو نشانے پر رکھ لیا ہےجبکہ ملک میں عام انتخابات کے بروقت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان بھی اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی عام انتخابات تاخیر سے کرانے کی تجویز کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے بھی پیپلز پارٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے انتخابات میں مجوزہ تاخیر پر مولانا فضل الرحمٰن کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کا آئندہ عام انتخابات الیکشن کمیشن کے مجوزہ شیڈول جنوری 2024ء میں کرانے کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی تاخیر کی مسلم لیگ ن بھرپور مخالفت کرے گی۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے پارٹی کو مقررہ وقت پر ہی انتخابات کے مطالبے پر ڈٹ جانے کی ہدایت دے دی ہے۔لیگی مرکزی قیادت نے پارٹی کو مولانا فضل الرحمٰن کے انتخابات میں تاخیر کے مطالبے سے فاصلہ رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ علاوہ ازیں کہا گیا ہے کہ ٹی وی ٹاک شوز اور دیگر پلیٹ فارمز پر انتخابات میں تاخیر سے متعلق کسی بھی قسم کی تجویز کی مخالفت کی جائے۔

مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق نواز شریف وطن واپسی پر مینار پاکستان کے جلسے میں انتخابات میں تاخیر کی تجویز کی مخالفت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف انتخابات آئندہ سال جنوری یا فروری میں ہی کرانے کے حامی ہیں۔ مسلم لیگ ن عام انتخابات جنوری یا فروری 2024ء سے آگے لے جانے کی مخالفت کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کا مطالبہ کر چکی ہے تاہم جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جنوری میں عام انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری کے آخر میں بالائی علاقوں میں برفباری کی وجہ سے موسم شدید سرد ہوگا، ایسے میں لوگوں کا ووٹ کاسٹ کرنا مشکل ہے۔ جبکہ دوسری طرف ملک ڈوب رہا ہے اور سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی پڑی ہے ملکی معیشت کی بحالی تک انتخابات کو موخر کر دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مردم شماری کی منظوری دی اور اب باہر آکر یہ فوری الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا یہ کون سی سیاست ہے۔ جب مردم شماری کی منظوری دی ہے تو اب اُسی کے تحت انتخابات ہونے چاہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کابینہ اجلاس میں میں بھی عام انتخابات 90 روز کے اندر کرانے کی بات کی تھی، آئین کا تقاضا ہے کہ 90 دن کے اندر انتخابات ہوں مولانا کی فرمائش ہے کہ انتخابات ضروری نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا قوم کو سچ سچ بتائیں کہ کس قیمت پر ایل ایف او کو آئین سے نتھی کیا تھا، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لانگ مارچ کرکے کٹھ پتلی کو اقتدار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا، مولانا نے کس کے اشارے پر لانگ مارچ کیا کس کے اشارے پر ختم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جمہوری سوچ رکھنے والے انتخابات سے بھاگنے کیلئے بہانے تلاش نہیں کرتے، اگر محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید

ڈالر کی قیمت 250 روپے سے نیچے کب آئے گی؟

نہ کیا جاتا تو 8 جنوری کو انتخاباتہو جاتے، مولانا فضل الرحمن کس کی فرمائش پر جنوری میں انتخابات سے بھاگ رہے ہیں۔

Back to top button