ایک فون کال تک نہیں آئی، بیچارے کپتان کی دہائی

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد ماضی کے برعکس حکومتی اتحادیوں اور اراکین اسمبلی کو کسی جانب سے کوئی ‘تاکیدی’ فون کالز نہ آنے کے باعث اب کپتان کی اپنی جماعت کا شیرازہ بکھرتا نظر آتا ہے اور ان کا اقتدار چند دنوں کا مہمان ہے۔ یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ سیاست میں غیر جانبداری اختیار کرنے کا اعلان کر چکی تھی جس کا برملا اظہار فوجی ترجمان نے بھی بارہا کیا تھا۔

تاہم فوج کے نیوٹرل ہو جانے کی تصدیق تب ہوئی جب اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے اعتراف کیا کہ تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے کسی حکومتی اتحادی یا رکن اسمبلی کو ماضی کی طرح کوئی فون کال نہیں گئی کہ انہوں نے کس کا ساتھ دینا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی کو قرار دیا جاتا ہے چونکہ فیض حمید کے پشاور تبادلے کے بعد نئے آئی ایس آئی چیف ندیم احمد انجم نے ایجنسی کے افسران کو سختی سے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو جانے کی ہدایت کی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ جب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد انکے اتحادیوں اور اپنی جماعت کے اراکین نے انہیں آنکھیں دکھانا شروع کیں تو انہیں فون کال کی افادیت کا شدت سے احساس ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نے فون کالز بحال کروانے کے لیے کافی ہاتھ پاؤں مارے لیکن جب انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو موصوف نے غیر جانبداری پر اصرار کرنے والے ادارے کو جانور قرار دے دیا۔ لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب کپتان نے اپنی فراغت کے پروانے پر بھی دستخط کر دیے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیوٹرل کو جانور قرار دینے کو فوجی ترجمان کے بیان کا ردعمل سمجھا گیا جس کے بعد فوجی قیادت عمران خان سے شعوری طور پر دوری اختیار کر چکی ہے۔

موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عمار مسعود کہتے ہیں ایسا معلوم لگتا ہے کپتان کے پاس اپنا اقتدار بچانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے، انہیں نہیں معلوم کہ کس کو نشانہ بنانا ہے، اور کس کو الزام دینا ہے۔ حکومتی بیانات اور خیالات آئے روز بدل رہے ہیں۔ عمار کہتے ہیں کہ کپتان کی نام نہاد 22 سالہ جدوجہد میں حریف بدلتے رہتے ہیں۔ جس سے یہ نتیجہ نکالنا دشوار نہیں ہے کہ آج جن کے خلاف وہ شدت سے بول رہے ہیں، کل سیاسی مصلحتوں کی خاطر ان کو گلے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے اتنا یاد رکھنا ہی کافی ہے کہ ماضی میں خان صاحب شیخ رشید کو ضمیر فروش اور چپڑاسی سمیت کیا کچھ نہیں کہتے تھے مگر آج وہ وزارت داخلہ کے عہدے پر متمکن ہیں۔ عمران جس پرویز الہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے وہ حکومت کے سب سے مضبوط اتحادی اور سپیکر پنجاب اسمبلی بنے اور اب کپتان اپنی حکومت بچانے کے لیے لئے چوہدری برادران کی منتیں کرنے میں مصروف ہے۔

پی ٹی آئی کا منحرف اراکین کوآئین کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے بارے میں بھی کپتان کیا کچھ نہیں فرمایا کرتے تھے۔ موصوف لندن جا کر ایم کیو ایم کے خلاف جلوس نکالا کرتے تھے لیکن اب اسی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کے چکر لگا رہے ہیں۔ موصوف برسر اقتدار آنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں جو ہزیان بکا کرتے تھے اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ عمران کو شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے سرکاری زمین نواز شریف نے دی، انہوں نے ہسپتال کا افتتاح بھی نواز شریف سے کروایا اور پھر اسی نواز شریف کے خلاف ہو گئے۔

خلاف ہونا تو چلو کوئی بات بھی ہے، اسی کے خلاف کیا کیا نہیں کہتے۔ بعد میں موصوف جنرل مشرف کو تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل گئے۔ وہ مشرف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات بھی کرتے رہے اور آج مشرف کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح کپتان مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ایک اتحاد میں شامل رہے، ان کا ہاتھ پکڑ کر فضا میں نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے اور آج دیکھیں انہیں کس نام سے پکارتے ہیں۔

اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دائر ہونے کے بعد سے فرسٹریشن کا شکار عمران خان کبھی کہتے ہیں کہ اصل مجرم آصف زرداری ہے، کبھی نواز شریف ان کا نشانہ ہوتا ہے، کبھی شہباز شریف اور کبھی بلاول، کبھی موصوف ایک سیٹ والے رکن اسمبلی کو منانے پارلیمنٹ لاجز پہنچ جاتے ہیں، کبھی پیپلز پارٹی کی سیاست کی دھجیاں بکھیرتے ہیں اور کبھی خود بھٹو بننے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ دنیا کا سب سے سستا ملک پاکستان ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ دنیا میں مہنگائی کی وجہ سے یہاں بھی مہنگائی ہوئی ہے۔

کبھی فرماتے ہیں کہ ان کا کام آلو، پیاز، ٹماٹر کی قیمت کنٹرول کرنا نہیں ہے، کبھی کہتے ہیں میری سیاست کا مقصد اصل میں تبلیغ کرنا ہے، تبلیغ کس چیز کی، اس بارے میں راوی ابھی تک خاموش ہے، کبھی فرماتے ہیں کہ ان کی 22 سالہ جدوجہد کا مقصد کرپشن کو ختم کرنا ہے اور ایسے میں کوئی اس دور پرآشوب کی کرپشن کے بارے مِں کچھ کہہ دے تو خفا ہو جاتے ہیں۔

بقول عمار مسعود، خارجہ کے معاملات بھی آج کل خان صاحب کی دسترس میں ہیں، کبھی تحریک عدم اعتماد کو امریکہ کی سازش قرار دیتے ہیں، کبھی اس کا الزام یورپیئن یونین کو دیتے ہیں، کبھی یوکرین میں امن کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں، کبھی سی پیک کو ملک کا اثاثہ قرار دیتے ہیں تو اور کبھی ریاستِ مدینہ پر بات کرنے لگتے ہیں۔ کبھی خواتین کے پردے کی فکر میں گھلے جاتے ہیں، کبھی صدارتی نظام کے داعی بن جاتے ہیں اور کبھی چین کا نظام لانے کی کوشش فرماتے ہیں۔

عمار کہتے ہیں کہ خان صاحب کی سیاسی ’قلابازیوں‘ کو بیان کرنے کا مقصد صرف تین نتائج پر پہنچنا تھا: ایک تو یہ کہ خان صاحب آج کل گھبرائے ہوئے ہیں، ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس صورت حال کا الزام کس کو دیں، امریکہ سے لے کر بلاول تک ہر ایک کا نام لے چکے ہیں مگر معاملہ ان کے قابو سے باہر نظر آتا ہے۔ دوسرا تنیجہ یہ ہے خان صاحب کسی بھی سیاسی جماعت اور اس کے قائد کے بارے میں جو چاہے کہیں، وقت پڑنے پر وہ ان سے سیاسی مفاد حاصل کرنے سے نہیں چوکتے۔

اس لیے آج کل جن لوگوں کے خلاف بول رہے ہیں، کل کو خان صاحب انہی کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جدوجہد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کا ماضی اس کی گواہی دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے آئندہ الیکشن میں آصف زرداری کپتان کے اتحادی ہوں، ق لیگ ان کی دست راست ہو اور ایم کیو ایم ان کی رہنما ہو۔ آخری نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں پہلی مرتبہ شدید انتظار کے باوجود کسی کو کہیں سے کوئی فون کالز نہیں آ رہیں۔ لہذا اب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ممکنہ نتیجہ ظاہر ہے۔

Not even a phone call poor captain’s decade Urdu News

Back to top button