اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر عمران کو نکالنا ممکن نہیں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں جتنا بھی زور لگا لیں جب تک انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل نہیں ہوگی وہ عمران خان کو اقتدار سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔ سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ اتنی کمزور اورغیر مقبول حکومت کے خلاف بھی عوام کو متحرک کرکے سڑکوں پر نہیں نکال سکی۔ جب تک انہیں کسی کی پشت پناہی حاصل نہ ہو جائے، لہذا ان حالات میں اب اپوزیشن صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے ہی عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ کوئی حکومت کتنی ہی
کمزور اور غیر مقبول کیوں نہ ہو جائے، ہماری اپوزیشن کبھی اس قابل نہیں ہوتی کہ اپنے زور پر اسے نکال باہر کرے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت بہت طاقتور ہوتی ہے، اس کو نکالنے کیلئے اگر اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ مل جائیں تو ہی حکومت گھر جاتی ہے، مگر فی الحال ایسی صورتحال نظر نہیں آتی۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ مجھے عمران خان کسی کے ایجنٹ نہیں لگتے، انہوں نے کہا کہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوال کریں کہ عمران خان کو کس بیرونی ایجنسی نے امداد دینی ہے؟ وہ کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں۔ اگرچہ میں ان کی پالیسیوں کا ناقد ہوں لیکن وہ کسی کے ایجنٹ نہیں لگتے، وہ اپنے ہی ایجنٹ ہیں۔ ان کی اپنی ہی ایک سوچ ہے۔ میرا نہیں خیال کہ عمران خان کو دنیا کے کسی ملک سے فنڈنگ ہوئی ہوگی۔
مری کی طوفانی برف باری میں کاروں میں پھنسے 20 افراد ہلاک
سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ پر الیکشن کمیشن اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اتنی منظم نہیں ہیں کہ وہ اپنے فنڈز کا حساب رکھ سکیں۔ اس لیے آرٹیکل 62 یا 63 کی بنیاد پر کسی کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ آرٹیکل آئین کا حصہ نہیں تھا لیکن پھر جنرل ضیاء کے دور میں سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسے آئین میں شامل کیا گیا۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو آئین سے نکال دینا چاہیے کیونکہ یہ اصل آئین پاکستان کا حصہ نہیں تھے ان کو تو بعد میں شامل کیا گیا تھا۔ ان آرٹیکلز کا مقصد صرف سیاست دانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس آرٹیکل کی بنیاد پر نہ تو عمران کو اور نہ ہی نواز شریف کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران حکومت نے اداروں کو ہمیشہ اپنے لئے بطور ڈھال استعمال کیا ہے اور ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں ٹکراؤ جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان کی اد پالیسی سے اپوزیشن کا نقصان ہوا ہے جبکہ حکومت فائدے میں رہی ہے۔
